افغانستان میں انڈیا تذبذب کا شکار، طالبان سے بات کرے یا نہ کرے؟

طالبان مذاکرات کار

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES

    • مصنف, سلمان راوی
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی، دہلی

یہ بات سنہ 1999 کی ہے جب انڈیا کا مسافر بردار طیارہ اغوا کیا گیا تھا۔ طیارے کو افغانستان کے قندھار ایئر پورٹ لے جایا گیا تھا۔

یہ علاقہ اس وقت طالبان جنگجوؤں کے زیر کنٹرول تھا۔ لہذا اغوا کاروں اور انڈیا کے درمیان طالبان ثالثی کر رہے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب انڈین حکومت نے طالبان سے کوئی رابطہ کیا تھا۔

اس کے بعد انڈین حکومت اور طالبان کے مابین کسی قسم کا باضابطہ سفارتی رابطہ نہیں ہوا۔ انڈیا ہمیشہ سے ہی افغانستان کی حکومت کے ساتھ رہا ہے۔

مسافر بردار طیارے کے اغوا کے دوران انڈیا میں اس وقت کے سینیئر سفارتکار جی پارتھاسارتھی بھی سرکاری عہدیداروں کی ٹیم کا حصہ تھے جنھوں نے مسافروں اور طیارے کو اغوا کاروں کے چنگل سے آزاد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ مسافروں اور طیارے کی رہائی کے بدلے میں انڈیا کو بھی تین شدت پسندوں کو رہا کرنا پڑا تھا۔

بی بی سی کے ساتھ اپنے اس تجربے کو شیئر کرتے ہوئے پارتھاسارتھی کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب انڈیا نے طالبان کے ساتھ باضابطہ طور پر وہ کام کیا جسے سفارتی زبان میں 'انگیج' کرنا کہتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد طالبان کے ساتھ پھر کبھی کوئی سفارتی گفتگو نہیں ہوئی۔

وہ کہتے ہیں: 'اس وقت ہم نے اپنے ایک افسر کو قندھار بھیجا جنھوں نے طالبان کے نمائندے یا یوں کہیں کہ اس کے سب سے بااثر کمانڈر کے ساتھ متعدد بار مذاکرات کیے تھے۔ انڈیا نے ہمیشہ ہی افغانستان کی حکومت کی حمایت کی ہے۔'

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سنہ 1996 میں طالبان نے اقتدار پر قبضہ کیا تو انڈین سفارتکار ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ پھر سنہ 2001 میں جب انڈیا نے افغانستان سے سفارتی تعلقات بڑھائے تو امریکہ کی زیرقیادت 'نیٹو' فورسز نے طالبان کے ٹھکانوں پر حملہ کیا اور انھیں پسپائی پر مجبور کیا۔

طیارہ

،تصویر کا ذریعہSAEED KHAN/AFP/GETTY IMAGES

اسٹریٹجک امور کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اب جب افغانستان میں طالبان ایک بار پھر مضبوط ہوتے جارہے ہیں اور جب امریکی فوجیوں کی واپسی کا وقت قریب آرہا ہے تو انڈیا کے سامنے ایک نیا چیلینج ہے کیونکہ امریکہ اور طالبان کے مابین گذشتہ دو سالوں سےجو بات چیت چل رہی تھی اس سے انڈیا نے خود کو علیحدہ ہی رکھا تھا۔

رواں سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے مابین ایک معاہدہ بھی ہو گيا۔ امریکی فوجیں افغانستان سے نکل رہی ہیں اور اس صورتحال نے یقینا انڈیا کی تشویش میں اضافہ کیا ہے کیونکہ پچھلے 20 سالوں میں انڈیا نے مختلف منصوبوں اور امداد کی شکل میں افغانستان میں ہزاروں کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں۔

افغانستان میں انڈیا

صرف نومبر سنہ 2020 میں ہی انڈیا نے افغانستان میں 150 نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل سنہ 2015 میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے افغانستان کی پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کیا تھا۔ یہ عمارت بھی انڈیا کی مدد سے تعمیر کی گئی ہے۔ اگلے ہی سال مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے مشترکہ طور پر افغانستان کے صوبہ ہرات میں 42 میگاواٹ بجلی اور آبپاشی کے منصوبے کا افتتاح کیا۔

بہت سارے پروجیکٹس ہیں جو انڈیا نے شروع کیے اور وہ کام کر رہے ہیں۔ انڈیا کی وزارت دفاع کی نگرانی میں بارڈر روڈس آرگنائزیشن (بی آر او) نے افغانستان میں متعدد اہم سڑکوں کی تعمیر کا کام بھی کیا ہے۔ افغانستان کی فوج، پولیس اور سول سروسز سے وابستہ افسران بھی انڈیا میں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔

مودی اشرف غنی

،تصویر کا ذریعہPib

انڈیا کی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈیا نہ صرف انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں بلکہ تعلیمی اداروں، تیل و گیس یونٹوں، اسٹیل انڈسٹریز، افغانستان میں بجلی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے وغیرہ کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔

یہ بات بھی درست ہے کہ نہ صرف مہاجرین کو پناہ دینے میں بلکہ انڈیا پورے خطے کا واحد ملک ہے جس نے افغانستان کو سب سے زیادہ معاشی اور دیگر اقسام کی امداد فراہم کی ہے اور اس نے افغانستان کی تعمیر نو میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

کیا انڈیا طالبان سے بات کرے گا؟

گذشتہ ماہ یوروپی یونین کے نائب صدر بورویل کے ساتھ مشترکہ بیان میں انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے واضح کیا کہ انڈیا افغانستان میں کسی بھی 'اسلامی امارت' کی حمایت نہیں کرے گا۔ واضح ہے کہ افغانستان کو 'اسلامی امارت' کے طور پر پیش کرنے والے طالبان کے لیے یہ انڈیا کا واضح پیغام تھا کہ اسے کبھی بھی انڈیا کی حمایت نہیں مل سکتی ہے۔

لیکن بدلی ہوئی صورتحال کے پیش نظر انڈیا میں اس بات پر بھی غور فکر جاری ہے کہ ستمبر کے مہینے میں جب امریکی افواج افغانستان سے چلی جائیں گی اس صورتحال میں انڈیا کا کیا موقف ہونا چاہیے؟

سٹریٹیجک اور خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سچ ہے کہ انڈیا کو طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات نہیں رکھنا چاہیے لیکن افغانستان کی صورتحال اس طرح کی بننے لگی ہے کہ سنہ 2018 میں جب روس نے افغانستان اور طالبان کے حوالے سے ماسکو میں بات چیت کی تھی تو انڈیا نے اس میں اپنا وفد بھیجا تھا۔

جے شنکر

،تصویر کا ذریعہTWITTER.COM/DRSJAISHANKAR

ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ پھر گذشتہ سال ستمبر میں جب افغانستان اور طالبان کے بارے میں دوحہ امن مذاکرات ہوئے تو وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس میں شرکت کی۔

اس مذاکرات کے دوران انڈیا نے واضح طور پر کہا تھا کہ خواہ امن کے لیے کوئی بھی عمل اپنایا جائے لیکن افغانستان کے عام لوگوں کو اس کے مرکز میں ہونا چاہیے۔ انڈیا نے کہا کہ یہ عمل 'افغان لیڈ، افغان اونڈ اینڈ افغان کنٹرولڈ' یعنی افغان کی سربراہی میں افغان کی ملکیت اور افغان کے کنٹرول کے فارمولے پر مبنی ہونا چاہیے۔\

یہ بھی پڑھیے

دریں اثنا امریکی صدر جو بائیڈن کی تجویز کردہ امن قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قیادت میں انڈیا، روس، چین، ایران اور پاکستان کے نمائندوں پر مشتمل کثیر الجہتی بات چیت ہونی چاہیے۔ انڈیا نے اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ انڈیا اب اپنی سابقہ پالیسی میں نرمی دکھا رہا ہے۔

جی پارتھاسارتھی کا کہنا ہے کہ 'چاہے انڈیا طالبان سے تعلقات قائم کرے یا نہیں؟ یا وہ کس سطح پر اس سے ڈیل کرتا ہے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ طالبان جمہوری طریقے اپناتے ہیں یا نہیں۔'

ان کا خیال ہے کہ اب صورتحال پہلے جیسی نہیں ہے اور 20 سالوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔

ان کے مطابق طالبان کا اثر ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں پشتون قبائل کی اکثریت آباد ہے۔

طالبان

انھوں نے کہا: 'پشتون قبائل پورے افغانستان کا 42 فیصد ہیں۔ جہاں ان کی تعداد کم ہے وہاں دوسرے قبائل کا زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ لہذا، حالیہ پرتشدد واقعات کے پیش نظر یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ طالبان پورے افغانستان میں ہیں اور خاص طور پر غیر پشتون علاقوں پر وہ قبضہ کر ہی لیں گے۔

'اس سے قبل بھی شمالی افغانستان کا ایک بہت بڑا حصہ احمد شاہ مسعود کے کنٹرول میں تھا۔ کابل کے شمال میں تاجک اور ازبک قبائل کے درمیان نہ تو طالبان کی حمایت ہے اور نہ ہی کوئی اثر و رسوخ۔'

لیکن مشرقی افغتانستان میں پشتون انتہا پسند گروپ حقانی کا مضبوط اثر و رسوخ ہے۔ یہ الزامات ہیں کہ اس گروہ کو پاکستان کی خفیہ تنظیم کی حمایت حاصل ہے۔ اس گروپ کی بنیاد جلال الدین حقانی نے رکھی تھی۔ لیکن سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے پشتونوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی سے صورتحال بدلی ہے۔

سفارتی حلقوں میں بھی افغانستان کے متعلق بات چیت جاری ہے۔ بہت سے سفارت کاروں کا خیال ہے کہ جب چین، یوروپی یونین اور روس طالبان سے تبادلہ خیال کرسکتے ہیں تو پھر انڈیا کو پیچھے نہیں رہنا چاہیے کیونکہ اگر انڈیا طالبان سے 'انگیج' نہیں ہوتا ہے تو پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کرے گا۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عام لوگوں کے ساتھ انڈیا

سابق سفارتکار نوتیج سرنا کا کہنا ہے کہ انڈیا کا مؤقف واضح رہا ہے۔ یہ ہمیشہ افغانستان کے عام لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے اور گذشتہ 20 سالوں میں انڈیا نے افغانستان کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کیے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر امریکی فوج افغانستان سے واپسی کرتی ہے تو یہ صورتحال بلاشبہ تشویشناک ہوجائے گی۔

انھوں نے کہا: 'لیکن انڈیا کو بھی اس بارے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اپنی فوج کو کس طرح ہٹاتا ہے۔ کون سا فارمولا اپنایا جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ تمام افواج اکٹھا ہٹ جائیں گی یا مرحلہ وار نکلیں گی۔'

ان کا کہنا ہے کہ اگر نئی حکومت تشکیل دی جائے تو انڈیا بھی چاہے گا کہ طالبان اس کا حصہ ہوں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ طالبان حکومت پر ہی قابض ہو جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر طالبان جمہوری عمل پر عمل درآمد نہیں کرتے ہیں تو ایسی صورت میں انڈیا کو اپنی افغانستان پالیسی پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔

دوسری طرف پارتھاسارتھی کا کہنا ہے کہ انڈیا کے لیے اچھا ہوگا کہ وہ اس وقت طالبان سے فاصلہ رکھے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر رسمی بات چیت ہونی چاہیے اور اس وقت تک فاصلہ بھی برقرار رکھنا چاہیے جب تک کہ طالبان کا موقف واضح نہیں ہو جاتا۔