’پاکستان نے اسامہ کو کیسے بچایا؟‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صحافی کیتھی گینن نے حال ہی میں امریکہ سے شائع ہونےوالی اپنی تازہ کتاب I Is for Infidel میں دعویٰ کیا ہے کہ جب انیس سو ننانوے میں امریکہ نے اسامہ بن لادن کو مارنے کے لیے افغانستان کے صوبہ خوست میں واقع دو عسکری تربیتی کیمپوں پرکروز میزائلوں سے حملہ کیا تو پاکستان نے خفیہ طور پر اسامہ بن لادن کو چند عرب جنگجوؤں سمیت سرحد پار کرا کر صوبہ سرحد کے شہر نوشہرہ کے علاقے چراٹ میں پاک فوج کےکمانڈوز ٹریننگ کیمپ میں چھپایا۔ کیتھی گینن نے اٹھارہ سال پاکستان میں گزارے۔ وہ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے وابستہ رہ کر افغانستان کے معاملات پر رپورٹنگ کرتی رہیں۔ کیتی وہ واحد صحافی تھیں جنہیں طالبان کے خلاف امریکی حملے کے دوران افغانستان میں داخلے کی اجازت ملی۔ کیتی کی کتاب دراصل افغانستان میں طالبان کے عروج و زوال پر ہے اور اس میں طالبان کے چند رہنماؤں کی مدد سےبعض باتوں سے پردہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ کتاب میں زیادہ تر حوالے طالبان دور کے سابق وزیر داخلہ ملا خاکسار کے دیے گئے ہیں۔ کتاب میں اس پہلو پر بھی بات کی گئی ہے کہ کس طرح افغانستان کی اندرونی بے چینی سے جنم لینے والی طالبان تحریک پراسامہ بن لادن اور پاکستان کا قبضہ ہوا؟ مُصنفہ ملا خاکسار کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ طالبان کی فوجی کامیابیوں کے بعد پاکستان نے اپنے مذہبی علماء کو تحریک میں داخل کروا کر ملا عمر کو اپنے نرغے میں لیاجس کی ایک مثال صوبہ بلوچستان کے ملا طیب آغا ہیں، جو امریکی حملے کے دوران ملا عمر کے ترجمان بنے۔ کیتھی گینن کتاب میں پاکستان فوج کا چھپا ہوا چہرہ، کے زیر عنوان ایک باب میں لکھتی ہیں کہ انیس سو اٹھاسی میں جب پاکستان پر امریکی پابندیاں لگیں تو پاکستان نے چین اور ایران سے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوششیں شروع کیں اور بقول ان کے ایران کے ایک سہ فریقی وفد نے پاکستان کا دورہ کر کے دس بلین ڈالر سے ایٹمی ٹیکنالوجی خریدنے کی پیشکش کی۔
نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت کے ایک وفاقی وزیر (جن کے بھائی اس وقت فوج میں جنرل بھی تھے) کے حوالے سے کیتھی گینن لکھتی ہیں کہ جب نواز شریف نے انہیں فوج کے سربراہ مرزا اسلم بیگ کے پاس اس لیے بھیجا کہ وہ امریکہ کے خلاف تند وتیز بیانات دینے سے گریز کر یں تو اسلم بیگ نے جواب میں کہا کہ ’وہ(ایران) ایٹمی ٹیکنالوجی خریدنے کا خواہش مند ہے اور اس کے لیے چھ سے دس ارب ڈالر دینے کے لیے تیار ہے‘۔ کیتی کے بقول پاکستان کے وفاقی وزیر نے ان سے کہا کہ ’منتخب حکومت کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کسی پروگرام کا پتہ نہیں ہوتاتھا اور فوج نے ہمیں اس بارے میں کچھ جاننے سے منع کیا تھا۔ کتاب میں انیس سو ننانوے میں پشاور میں امریکن قونصلیٹ میں ملا خاکسار اور امریکی اہلکاروں کے درمیان ملاقات کا ذکر بھی ہے، جو بقول ملا خاکسار خفیہ تھی اور جس میں انھوں نے امریکیوں کے سامنے طالبان کو شکست دینے کے لیے ایک پلان پیش کیا لیکن امریکی اس ملاقات میں صرف اسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے پر زور دیتے رہے اور بقول ملا خاکسار آخر میں امریکیوں نے اس پلان کو واشنگٹن لے جانے کا وعدہ کیا۔ ملاقات کے اختتام پر امریکی اہلکار میک لیوان نے پانچ روپے کا نوٹ درمیان میں سے پھاڑ کراس کا آدھا حصہ ملا خاکسار کو اور آدھا حصہ اپنے ساتھ ثبوت اور نشانی کے طور پر رکھا۔ ملا خاکسار کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے بعد امریکیوں نے پلان مسترد کر کے انہیں پشتو زبان میں ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا ’سی آئی اے نے اسی کی دہائی میں افغان مجاہدین کی مدد کر کے غلطی کی اور اب وہ یہ غلطی دوبارہ دہرانا نہیں چاہتی‘۔ |
اسی بارے میں ’طالبان حوالے کرنے کاخیرمقدم‘ 27 October, 2005 | آس پاس طالبان کی لاشیں جلانے کی تحقیقات 20 October, 2005 | پاکستان ہلاکتوں پرطالبان کی مذمت 20 October, 2005 | آس پاس طالبان کے ترجمانِ اعلیٰ گرفتار04 October, 2005 | پاکستان طالبان کےاہم کمانڈر کی گرفتاری 14 August, 2005 | آس پاس آٹھ مشتبہ طالبان مزاحمت کار ہلاک07 August, 2005 | آس پاس ’طالبان طرزحکومت واپس آجائےگا‘ 01 August, 2005 | پاکستان القاعدہ اور طالبان: پابندیاں سخت30 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||