ممبئی حملے: انڈیا کا پاکستان سےاحتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے ممبئی میں ہونے والے حملوں پر پاکستان سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔ انڈین حکومت نے پاکستان کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستان سے احتجاج کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کو کنٹرول نہیں کر رہا ہے۔ پاکستان نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ دہشتگرد علاقے کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انڈیا کو ممبئی میں ہونے والی دہشتگردی کی سزا پاکستان کو دینے کی کوششوں سے احتراز کرنا چاہیے۔ پاکستانی صدر نے بھارتی وزیر اعظم سے کہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج آنےسے پہلے ہی پاکستان کو ممبئی میں ہونے والے واقعات کا ذمہ دار قرار دینا ان غیر ریاستی شرپسند عناصر کےعزائم کی تکمیل ہو گی جو علاقے میں جنگ کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ برطانوی اخبار فائنشنل ٹائمز کو دیئے گئےایک خصوصی انٹرویو میں صدر آصف زرداری نے کہا کہ غیر ریاستی شرپسند عناصر کی اشتعال انگیزی دو نیوکلیئر ریاستوں کو جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔ آصف زرداری نےکہا کہ ’فرض کریں کہ لشکر طیبہ ہی ممبئی دہشتگردی میں ملوث ہے تو آپ کے خیال میں پاکستان کس کے خلاف لڑ رہا ہے۔‘ آصف زرداری نے کہا کہ ہم اس دور میں رہ رہے ہیں کہ جب غیر ریاستی شرپسند عناصر نےملکوں کو جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے جن میں نائن الیون اور عراق کی مثالیں سب کے سامنے ہے۔ صدر آصف زرداری نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کو دہشتگردوں کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ممبئی حملوں کی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے۔ کونڈولیزا رائس نے لندن میں ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس موقع پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہتیں لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اس موقع پر مکمل شفافیت کا مظاہرہ کرے اور تحقیقات میں مکمل تعاون کرے۔‘ وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس رواں ہفتے میں انڈیا کا دورہ کرنے والی ہیں۔ ادھر بھارتی وفاقی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل اور مہاراشٹر کے نائب وزیراعلٰی آر آر پاٹل کے استعفوں کے بعد اب وزیراعلٰی ولاس راؤ دیش مکھ نے بھی مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے جبکہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ممبئی حملوں کے بعد دہشتگردی کی روک تھام کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ مسٹر دیش مکھ نے ممبئی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سنیچر کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں اپنے استعفے کی پیشکش کی تھی اور اب فیصلہ ہائی کمان کے ہاتھ میں ہے۔ بدھ کی رات شروع کیے گئے ان حملوں میں کم سے کم ایک سو اسی افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں غیرملکی شہری بھی شامل ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم من موہن سنگھ نے حملوں کے بعد کی صورتحال پر غور کے لیے ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا تھا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ’ہم نے اپنی بحری اور فضائی حفاظت کو مضبوط کرنے کے لیے مزید اقدامات کر دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں نیوی، کوسٹ گارڈ، کوسٹل پولیس، فضائیہ اور شہری ہوابازی کی وزارت شامل ہوگی۔ انسدادِ دہشتگردی فورسز کو مزید مربوط اور مضبوط بنایا جائے گا۔ قانونی اقدامات میں وفاقی سطح پر ایک تحقیقاتی ادارے کا قیام بھی شامل ہے۔‘
وزیر اعظم نے کہا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سب لوگوں کو وقتی مفاد سے بالاتر ہوکراس نازک موقع پر مل کر کام کرنا ہوگا۔ ’ہمیں جو بھی کرنا ہے، اس پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا تاکہ خطرات کے مقابلے کے لیے ہم مضبوط دفاع قائم کرسکیں۔ دہشتگردوں اور ہمارے دشمنوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے اقدامات ہمیں بانٹنے کے بجائے متحد کرتے ہیں۔‘ ہندوستان کے نائب وزیر داخلہ شکیل احمد نے کہا ہے کہ اب یہ بات طے ہے کہ ممبئی میں مختلف مقامات پر حملے کرنے والے افراد میں سے تقریباً سبھی کا تعلق پاکستان سے تھا۔ واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر نے بھارتی وزیر داخلہ کے بیان پر اپنے ردعمل میں ایک امریکی چینل کو بتایا کہ یہ ان کے ملک پر الزام تراشی کا وقت نہیں ہے۔ ’میرے خیال میں یہ اس کا وقت نہیں کہ بھارت یا کوئی اور پاکستان پرالزام لگائے۔ بلکہ یہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا وقت ہےاور ہمیں دہشتگردوں کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا نہیں ہونا چاہئیے۔‘ ادھر، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ہانگ کانگ کا اپنا چار روزہ سرکاری دورہ منسوخ کرتے ہوئے ممبئی میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں کانفرنس برائے قومی سلامتی منگل کے روز طلب کی ہے۔ حکومت پاکستان نے ممبئی میں گزشتہ چار روز کے دوران ممبئی کے اہم مقامات پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے سنیچر کی شام کو صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران پاکستان کی ایک سکیورٹی ایجنسی کے اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے اپنی فوجیں سرحدوں پر بھیجیں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا دے گا۔
|
اسی بارے میں ممبئی میں حملے اور پاکستان کافریدکوٹ30 November, 2008 | پاکستان ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا ہیمنت کر کرے کون تھے29 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||