تاج ہوٹل میں شدید لڑائی: فائرنگ، دھماکے، آگ، دھواں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے تاج ہوٹل میں دھماکوں اور شدید فائرنگ کی اطلاع ہے۔ ٹی وی چینلوں پر دکھائی جانے والے تصاویر میں ہوٹل کی کچھ کھڑکیوں سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ہوٹل کے کئی حصوں سے آگ کے شعلے بھی بلند ہو رہے ہیں۔ ممبئی فائر بریگیڈ کا عملہ آگ بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارتی سکیورٹی افواج گزشتہ چار روز ہوٹل کو خالی کرانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ تاج ہوٹل کے سامنے موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تاج ہوٹل میں ہونے والی شدید لڑائی کے بعد صورتحال کسی حد تک پرسکون ہو چکی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق پولیس اور فوج کے جوان بہت پرسکوں طریقے سے ہوٹل کی لابی کے سامنے گھوم رہے ہیں جہاں تمام رات کمانڈوز اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی ہوتی رہی ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ہوٹل کا محاصرہ ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک تاج ہوٹل میں ہونے والے آپریشن کے خاتمے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ممبئی پولیس کے سربراہ کے حوالے سے کہا ہے کہ بھارج فوج کے کمانڈوز نے تاج ہوٹل میں مزید دو شدت پسند کو ہلاک کر دیا ہے۔ ممبئی پولیس کے سربراہ کے مطابق تاج ہوٹل میں سکیورٹی آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ جمعہ کے روز حکام نے اوبیرائے ہوٹل اور ناریمان ہاؤس کو بھی شدید لڑائی کے بعد حملہ آوروں سے آزاد کروا لیا تھا اور سکیورٹی فورسز تاج ہوٹل کو خالی کروانے کی کوششیں کر رہی تھیں۔ ممبئی پولیس کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 143 ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار ریحانہ بستی والا نے ناریمان ہاؤس کے سامنے سے بتایا کہ جمعہ کے روز انڈیا کے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے کے بعد لڑائی تیز ہو گئی، کافی دستی بم پھینکے گئے اور دو حملہ آوروں کی ہلاکت کے بعد عمارت پر سکیورٹی فورسز کا قبضہ ہو گیا۔ حکام نے بتایا کہ کارروائی کے دوران یرغمال بنائے جانے والے دو یا تین لوگ بھی ہلاک ہوئے۔ دریں اثناء پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ممبئی حملوں کی تفتیش میں مدد کے لیے آئی ایس آئی کے نمائندے کو بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل بھارتی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان میں کچھ عناصر ان حملوں میں ملوث ہیں۔ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ آپریشن نیشنل سکیورٹی گارڈز یعنی این ایس جی کمانڈرز کے ہاتھ میں ہے۔ مجموعی طور پر 477 کمانڈر آپریشن کی ذمہ داریاں انجام دے رہیں ہے۔ حکام کے مطابق اب تک این ایس جی کے دو کمانڈوز اور 15 پولیس اہلکار آپریشن میں ہلاک ہوئے ہیں۔ تاج ہوٹل میں آپریشن کے دوران عمارت سے باہر کوریج کے لیے کھڑے ہوئےدو صحافی ہوٹل سے کی گئی فائرنگ میں زخمی ہوئے۔ ناریمان ہاؤس کے باہر لوگوں نے شام کے وقت ایک بار یہ سمجھتے ہوئے کہ کارروائی کامیابی سے ختم ہو گئی ہے نعرے بازی شروع کر دی لیکن مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے لوگوں کو پیھچے ہٹایا۔ اوبیرائے ہوٹل کے بارے میں این ایس جی کے سربراہ جے کے دت نے بتایا کہ اس آپریشن میں دو شدت پسندوں کو مارا گیا ہے اور ان کے مطابق شدت پسندوں کے پاس سے ایک اے کے 47 ، ایک پسٹل اور دستی بم برآمد ہوئے ہیں۔ جمعہ کو اوبیرائے ٹرائڈینٹ ہوٹل سے تقریباً سو افراد کو رہا کرایا گیا تھا۔
وہ یہ نہیں بتایا سکے کہ دونوں ہوٹلوں میں کل کتنے افراد پھنسے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ہوٹلوں کے ہر کمرے کی تلاشی جاری ہے اور اس بات کا پتا لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کہیں کسی کمرے میں کوئی شدت پسند چھپا تو نہيں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی کمرے اندر سے بند ہیں اس لیے اور ان کمروں کی ماسٹر کی بھی نہيں مل پا رہی ہے اس لیے دروازے کھولنے کے لیے کم شدت کے دھماکے کیے جا رہے ہیں۔
مارکوس کے نام سے جانے والے بحریہ کے مرین کمانڈو دستے نے ممبئی حملوں کے دوران شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کارروائی میں حصہ لینے والے مرین کمانڈو کے دستے نے اپنے منہ پر نقاب پہن کر تاج ہوٹل کے باہر میڈیا سے خطاب کیا اور آپریشن کے بارے میں تفصیلات دیں۔ ایک مرین کمانڈو نے بتایا ’ٹرائیڈینٹ ہوٹل میں لگتا ہے دو شدت پسند تھے۔ شدت پسندوں نے ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھیں اور ان کی عمریں تیس سال سے کم ہی تھی۔ ایک جگہ پر تیس افراد کی لاشیں ادھر ادھر پڑی تھیں۔ چاروں طرف خون پھیلا ہوا تھا۔ لیکن ہماری ترجیج لوگوں کی جان بچانا تھی۔ ایک کمرہ چھت پر کھلتا ہے اور جب ہم وہاں پہنچے تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے شدت پسند وہاں سے نکل گئے ہوں۔ جس طرح سے ان لوگوں نے ایک کے 47 چلائیں اور گرینیڈ پھینکے اس سے لگتا ہے کہ یہ لوگ کافی تربیت یافتہ ہیں۔ وہ کسی پر رحم نہیں کر رہے تھے، ان کے سامنے جو بھی آیا وہ سب پر گولی چلا رہے تھے۔‘ مرین کمانڈو نے تاج ہوٹل کے آپریشن کے بارے میں بتایا ’جس طرح سے شدت پسندوں نے تاج ہوٹل میں لوگوں کو نشانہ بنایا ہے اس سے ایک بات واضح ہے کہ وہ ہوٹل سے بہت اچھی طرح واقف تھے انہیں یہ پتہ ہے ہوٹل کس طرح کا بنا ہوا ہے۔ اس سے یہ صاف ہے کہ وہ ہوٹل کو پہلے سے جانتے تھے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق ہوٹل میں تین سے چار شدت پسند ابھی بھی موجود ہیں۔ بعض کریڈٹ کارڈ حاصل ہوئے جن میں سٹی بینک اور آئی سی آئی سی آئی کے کریڈٹ کارڈ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چھ ہزار انڈین روپے اور ڈالر بھی برآمد ہوئے ہیں۔‘
کمانڈو کے مطابق شدت پسندوں کے پاس سے موصول ہونے والا سامان پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ کمانڈو سے جب یہ پوچھا گیا کہ شدت پسندوں کی شناخت کیا ہے ان کا تعلق کہاں سے ہوسکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سب جانکاری پولیس کو دے دی گئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس زبان میں بات کر رہے تھے تو کمانڈو کا کہنا تھا کہ انہوں نے شدت پسندوں کو بولتے ہوئے نہیں سنا۔ حالانکہ انکا کہنا تھا کہ ایک شناختی کارڈ ملا ہے جو موریشیس کا ہے۔ ادھر لیفٹیننٹ جنرل این تھمبوراج نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ تاج محل میں ایک حملہ آور اب بھی موجود ہے جو ہوٹل کی دو منزلوں پر گھوم رہا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس نے ایک خاتون سمیت دو لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہو۔ اوبیرائے ہوٹل کے باہر موجود بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے صلاح الدین نے اطلاع دی کہ اوبیرائے ہوٹل میں پھنسے غیر ملکیوں کو ہوٹل سے متصل ائیر انڈیا کی عمارت کے ذریعے باہر نکالا گیا۔ اس سے قبل انتالیس افراد کو ہوٹل سے نکالا گیا تھا۔ ادھر بھارتی بحریہ نے ممبئی کے شمال کے سمندر میں دو پاکستانی تجارتی جہازوں کو روک لیا ہے جن پر اس واقعے میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ حکام کا دعویٰ ہے کہ شدت پسند دو تیز رفتار کشتیوں میں سوار ہو کر ممبئی پہنچے تھے۔ اس سے قبل حملوں کی ذمہ داری غیر معروف دکن مجاہدین نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔
|
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق10 November, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘ 23 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||