’گجرات فسادات کی مزید تفتیش‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے گجرات فسادات کے دس اہم واقعات کی تفتیش کے جائزے اور مزید تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ ٹیم اپنی رپورٹ تین مہینے کے اندر پیش کرے گی۔ اس پانچ رکنی خصوصی ٹیم میں گجرات کے تین اعلیٰ پولیس افسران گیتا جوہری، شیوانند جھا اور آشیش بھاٹیہ اور سی بی آئی کے ایک سبکدوش سربراہ آر کے راگھون اورریاستی پولیس کے سابق سربراہ سی بی شتپھی شامل کیے گیے ہيں۔ سپریم کورٹ کی ایک تین رکنی بینچ نے خصوصی ٹیم کی تشکیل کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بارے میں مزید احکامات بدھ کو جاری کیے جائیں گے۔ عدالت عظمی نے یہ فیصلہ حقوق انسانی کے قومی کمیشن کی اس درخواست کی سماعت کے دوران دیا جس میں یہ گزارش کی گئی تھی کہ گواہوں کی زندگی کو خطرات اور مسلسل دھمکیوں کے سبب گجرات فسادات کے اہم معاملات کا مقدمہ ریاست سے باہر منتقل کردیا جائے اور ان واقعات کی تفتیش سی بی ائی جسے کسی آزاد ادارے سے کرائي جائے۔ حقوق انسانی کی کارکن تیستا سیتلواڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بہت اہم قرار دیا ’ہمیں امید ہے کہ تین مہینے کے بعد تفتیشی رپورٹ آئے گی تویہ بات پوری طرح سے عیاں ہوجائے گی جو بات ہم بار بار کہتے رہے ہيں کہ گجرات کے اندر انصاف نہيں مل سکتا۔‘ فسادات میں ہلاک ہونے والے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کے بیٹے تنویر جعفری نے بی بی سی کو اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ اپنی بات نئی ٹیم کے سامنے رکھ سکیں گے’ ہم یہ چاہتے تھے کہ یہ پورا معاملہ مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کے حوالے کردیا جائے ، یہ تو نہیں ہوا، تاہم عدالت کے اس فیصلے سے بھی نا خوش نہيں ہوں۔ ہم سمجھتے ہيں کہ یہ فیصلہ ہمارے حق میں ہے۔‘ سپرریم کورٹ نے 2003 میں ان معاملات کی گجرات میں سماعت روک دی تھی۔ گجرات میں فروری 2002 میں گودھرا میں سابرمتی ٹرین کے ایک ڈبے پر مبینہ طور پر مسلمانوں کے ایک ہجوم نے آگ لگادی تھی جس میں 60 سے زیادہ ہندو کارسیوک ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد پوری ریاست میں مسلمانوں کے خالف فسادات پھوٹ پڑے تھے، جن میں ڈیرھ ہزار سے زیادہ مسلم مارے گئے تھے۔ لیکن بعد میں ان میں ایک دو واقعات کو چھوڑ کر بیشتر واقعات میں قصورواروں کو کوئی سزا نہيں مل سکی۔ ریاست کے مسلم متاثرین اور حقوق انسانی کی تنظمیں گجرات کی حکومت پر تفریق برتنے کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فسادیوں کو انتظامیہ کی پشت پناہی حاصل رہی تھی۔ اور وہ دانستہ طور پر ان کے خلاف کچھ نہیں کررہی ہے۔ سپریم کورٹ کی مداخلت سے بعض اہم کیسز ریاست سے باہر منتقل کیے جا چکے ہيں اور بعض میں عدالت سے قصورواروں کو سزا بھی مل چکی ہے۔ |
اسی بارے میں فسادات کی کہانی بیان کرتی بیکری09 December, 2007 | انڈیا فسادات کی کہانی بیان کرتی بیکری09 December, 2007 | انڈیا ظاہرہ کو جرمانےکی ادائیگی معاف07 March, 2007 | انڈیا گجرات: فسادات کے پانچ سال بعد25 February, 2007 | انڈیا ظاہرہ کی والدہ کو تین ماہ قید16 May, 2006 | انڈیا بیسٹ بیکری کیس: نو ملزموں کو سزا24 February, 2006 | انڈیا ظاہرہ کے خلاف وارنٹ پرغور 25 July, 2005 | انڈیا فسادات: مودی پر پھر نکتہ چینی13 May, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||