ظاہرہ کو جرمانےکی ادائیگی معاف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ریاست گجرات کے بیسٹ بیکری مقدمے کی منحرف اہم گواہ ظاہرہ شیخ پر توہین عدالت کے سبب عائد کیے جانے والے پچاس ہزار روپے کے جرمانے کی ادائیگی معاف کر دی ہے۔ اب انہیں مزید ایک سال قید کی سزا نہیں کاٹنی پڑے گی۔ بدھ کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران ظاہرہ شیخ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ظاہرہ اپنی ایک سال کی سزا پوری کر چکی ہیں جو عدالت نےگزشتہ برس آٹھ مارچ کو سنائی تھی۔ ظاہرہ شیخ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ غریب ہیں اور وہ اس حالت میں نہیں ہيں کہ وہ جرمانے کی رقم ادا کر سکیں ہے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چوں کہ وہ اپنے بیانات سے بدلنے کے لیے ایک سال کی سخت سزا کاٹ چکی ہیں لہذا انہیں جرمانہ ادا کرنے کی جو سزا دی گئی تھی اس پر نظرِثانی کی جائے۔ گزشتہ برس سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے ظاہرہ شیخ کو بار بار اپنے بیان بدلنے کے سبب ایک سال کی قید اور پچاس ہزار روپے کی سزا سنائی تھی۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ اگر ظاہرہ جرمانے کی رقم ادا نہیں کرتی ہیں تو انہیں ایک سال کی مزید سزا کاٹنی پڑے گی۔ 2002 میں گجرات میں فسادات کے دوران ہنومان ٹیکری پر واقع بیسٹ بیکری میں ظاہرہ کے گھر کے لوگ کچھ ملازمین اور اطراف کے لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ شر پسندوں نے پیٹرول بم سے بیکری کو جلا دیا تھا جس میں چودہ افراد جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔ ظاہرہ نے پولیس کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں ملزمان کو پہچان کر ان کے نام لکھوائے تھے لیکن فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت کے دوران منحرف ہوگئیں۔
بعد میں سماجی کارکن تیستا سیتلواد کے سامنے جو اس پورے معاملہ پر نظر رکھے ہوئے تھے، ظاہرہ شیخ نے کہا تھا کہ انہیں دھمکیاں دی جارہی تھیں اس لیے انہوں نے عدالت میں جھوٹ بولا تھا۔ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔ وہاں بھی ظاہرہ نے کہا کہ انہیں اور ان کے گھر کے افراد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں اور وہ وہاں محفوظ نہیں ہیں۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے پہلی مرتبہ کسی ریاست کا کیس دوسری ریاست میں چلانے کا حکم جاری کیا۔ اس حکم کے بعد یہ مقدمہ گجرات سے مہاراشٹر منتقل کردیا گیا۔ مہاراشٹر کے شہر ممبئی کی عدالت کے سامنے ظاہرہ پھر مکر گئیں اور انہوں نے تیستا پر سیتلواد پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ سپریم کورٹ کی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے تفتیش شروع کی اور پھر اس کمیٹی کی تفتیش کے بعد عدالت نے ظاہرہ کو سزا سنائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گجرات فسادات کے پانچ برس ہو چکے ہیں۔ اس ہندو مسلمان فسادات میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں بیشتر مسلمان تھے۔ اب تک فسادات کے ملزمان کو کوئی سزا نہیں ملی ہے جب کہ گجرات فسادات میں حکومت کی مبینہ جانب دارانہ کارروائی پر ملک اور بیرونِ ملک نکتہ چینی کی گئی اور بعض اعتدال پسند ہندو سماجی کارکنوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے اداروں نے ریاستی حکومت پر ان فسادات میں مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدام نہ اٹھانے کا الزام عائد کیا ہے۔ |
اسی بارے میں ظاہرہ شیخ کی سزا کی معافی کی اپیل 21 July, 2006 | انڈیا ظاہرہ شیخ: مزید تین ماہ قید کی سزا12 June, 2006 | انڈیا ظاہرہ شیخ کی تمام املاک ضبط09 June, 2006 | انڈیا ظاہرہ کی والدہ کو تین ماہ قید16 May, 2006 | انڈیا سزا میں کمی، ظاہرہ کی درخواست رد10 April, 2006 | انڈیا ظاہرہ شیخ عدالتی تحویل میں13 March, 2006 | انڈیا بیسٹ بیکری کیس: ظاہرہ کو سزا08 March, 2006 | انڈیا ظاہرہ جھوٹی ہیں: انکوائری کمیٹی29 August, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||