ظاہرہ شیخ کی سزا کی معافی کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے بعض سرکردہ سماجی کارکنوں، دانشوروں اور وکیلوں نے صدر اے پی جے عبدالکلام سے اپیل کی ہے وہ اپنے اختیارات استمعال کرتے ہوئےگجرات بیسٹ بیکری کیس کی منحرف گواہ ظاہرہ شیخ کی سزا قید معاف کردیں۔ ظاہرہ شیخ گجرات میں سن دو ہزار میں فرقہ وارانہ فسادات کے بیسٹ بیکری کیس کی چشم دید گواہ تھیں۔ ظاہرہ پر الزام ہے کہ کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے کئی بار اپنے بیان بدلے اور اس کے سبب عدالت نے انہیں جھوٹ بولنے اور بیان بدلنے کا قصورار قرار دیتے ہوئے ایک سال کی قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ سرکرداہ سماجی کارکن اور دانشور ہرش مندر، اوما چکرورتی، اندرانی جے سنگھ اور وندا گروور نے جمعرات کو صدر اے پی جے عبدالکلام سے ملاقات کی اور ایک عرضداشت پیش کی۔ انہوں نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ ظاہرہ کو دی گئی سزا ’سخت‘ ہے۔ سماجی کارکن ہرش مندر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارا خیال ہے کہ سپریم کورٹ نے پہلی بار کسی کو عدالت میں جھوٹ بولنے اور بیان بدلنے کی سزا دی ہے۔ ہمارا کہنا ہے کہ ظاہرہ خود ذاتی طور پر گجرات میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے متاثر ہوئی تھیں۔ ان کے گھر کے چودہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ انہوں نے دباؤ میں آ کر عدالت سے جھوٹ بولا تھا۔ اس طرح کے حالات میں ان کے لیئے سچ بولنا مشکل ہوگیا تھا۔ عدالت کو ان افراد کو مجرم قرار دیا جانا چاہیے جنہوں نے ان پر جھوٹ بولنے کے لیئے دباؤ ڈالا تھا‘۔ مسٹر مندر نے مزید بتایا کہ گجرات کے حالات آج بھی معمول پر نہیں ہیں اور ظاہرہ بھی ڈری ہوئی تھیں اس لیئے انہوں نے اپنے بیان بدلے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اگر ان کی غلطی معاف نہیں کرسکتی تو کم از کم وہ چار ماہ کی جیل کاٹ چکی ظاہرہ کی باقی سزا ختم کر دے۔ پولیس کے مطابق ظاہرہ نے فسادیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ جس کے بعد گجرات کی فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا لیکن ظاہرہ نے فسادیوں کو پہچاننے سے انکار کردیا تھا اور کیس کے سب ہی ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔ لیکن سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ اور کئی دیگر غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے یہ مقدمہ گجرات سے ممبئی منتقل کردیا جہاں ظاہرہ کی شناخت کے بنیاد پر ملزموں کو سزا سنائی گئی تھا لیکن عین موقع پر ظاہرہ عدالت میں منحرف ہوگئیں اور انہوں نے خود تیستا پر ملزموں کا نام لینے کے لیئے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کردیا تھا۔ عدالت کی طرف سے اس معاملے کی تفتیش کی گئی اور ظاہرہ کو جھوٹ بولنے اور بیانات بدلنے کا قصوروار پایا گیا۔ وہ عدالت کے حکم پر گزشتہ چار ماہ سے جیل میں ہیں۔ صدر اے پی جے عبدالکلام نے ظاہرہ کی سزا معاف کرنے کے بارے میں فوری طور پر کوئی یقین دہانی تو نہیں کرائی ہے لیکن یہ کہا ہے کہ وہ ان کی اس درخواست پر غور کریں گے۔ تیستا سیتلواڈ نے ظاہرہ کے سلسلے میں دانشوروں کی اس کوشش کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ | اسی بارے میں ظاہرہ کے خلاف وارنٹ پرغور 25 July, 2005 | انڈیا ظاہرہ جھوٹی ہیں: انکوائری کمیٹی29 August, 2005 | انڈیا بیسٹ بیکری کیس: ظاہرہ کو سزا08 March, 2006 | انڈیا ظاہرہ شیخ عدالتی تحویل میں13 March, 2006 | انڈیا سزا میں کمی، ظاہرہ کی درخواست رد10 April, 2006 | انڈیا ظاہرہ کی والدہ کو تین ماہ قید16 May, 2006 | انڈیا ظاہرہ شیخ کی تمام املاک ضبط09 June, 2006 | انڈیا ظاہرہ شیخ: مزید تین ماہ قید کی سزا12 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||