فسادات کی کہانی بیان کرتی بیکری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بڑودہ شہرکے ہنومان ٹیکری علاقے میں واقع بیسٹ بیکری جو کبھی اپنی ذائقے دار کیک اور سستی روٹیوں کے لیے پورے شہر میں مشہور تھی اب بغیر چھت کے ہے۔ باہر سےلوگ جب یہ بیکری دیکھنے آتے ہیں تو آس پڑوس کے لوگوں کوحیرت نہیں ہوتی کیونکہ گزشتہ پانچ برسوں سے اسے کوئی نا کوئی دیکھنے آتا ہی رہتا ہے۔ اور یہ بیکری 2002 کے گجرات فسادات کی کہانی بیان کرتی ہے۔ دو ہزار دو کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران یکم مارچ کی شام کو بیسٹ بیکری میں چودہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا جس میں دو ہندو ملازم بھی شامل تھے۔ بیکری کی ٹوٹی پھوٹی بھٹی اب بھی برقرار ہے۔ اس عمارت کے مالک اور کرائےدار اب سب بدل چکے ہیں۔ ایک نحیف اور کمزور بیوہ حنا اپنے بیٹے سمیر اور بیٹی صابرہ کے ساتھ بغل والے مکان میں رہتی ہیں۔ حنا بیسٹ بیکری کے اصل مالک حبیب اللہ کی بڑی بہو ہیں جن کے شوہر شیخ نفیداللہ کی دو برس قبل جانڈس سےموت ہوچکی ہے۔ ان سے جب موجودہ حالات کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگیں’ کچھ نہیں کہنا چاہتی کیونکہ مجھے یہیں رہنا ہے میری پریشانیاں مت بڑھاؤ‘۔ انتخابات کے ذکر سے وہ پریشان ہوجاتی ہیں۔’ میں سیاسی باتیں نہیں کرنا چاہتی جہاں سب ووٹ ڈالیں گے میں بھی ڈال دوں گی، مجھے یہیں رہنا ہے اور آپ بی جے پی کانگریس کی باتیں مجھ سے نہ کریں‘۔ تھوڑا وقت بیتا تو حنا بولنے لگیں۔ ’ ظاہرہ شیخ، میری ساس اور دیور نصیب اللہ کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں، ظاہرہ نے میری کوئی مدد بھی نہیں کی اور بس یہی جگہ اب میرا سہار ا ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ اس جگہ کوئی رہنے کے لیے تیار نہیں تھا اس لیے ان کے نام کردی گئی ہے۔’میں بھی چار برس تک ادھر ادھر بھٹکتی رہی، کبھی تیستا سیتلواد نے رکھا تو کبھی کسی نے لوگوں نے مدد بھی کی لیکن روزگار کا کہیں کوئی ذریعہ نہیں نکلا تو مجبورا یہیں واپس آگئی۔‘ حنا نے کہا کہ پولیس اب بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ساس دیور کو تین ماہ کی سزا ہوئی تھی اور پولیس ان کی تلاش میں میرے پاس آتی رہتی ہے۔ حنا نے بتا یا کہ ظاہر شیخ کا گوا میں رشتہ طے ہوا تھا لیکن یہ پتہ نہیں کہ ہوئی یا نہیں ہوئی۔‘ بیسٹ بیکری والا حصہ پانچ سو روپے ماہانہ کرائے پر دے رکھا ہے جس میں رام نارائن پکوڑی بناکر بیچتے ہیں۔ بغل والے مکان کے آدھے حصے میں حنا خود رہتی ہیں جبکہ آدھے میں بہار سے آئے مزدوروں کی ایک فیملی رہتی ہیں۔ ’ دونوں سے ہزار روپیہ کرایہ مل جاتا ہے، میں پڑوسیوں کے کپڑوں پر استری کرکے اور راکھی بناکر بھی کچھ پیسے کما لیتی ہوں۔‘
فسادات کے بارے میں بات کرتے کرتے حنا رونے لگیں۔ ’حملے والے روز میرا بیٹا سمیر صرف بارہ دن کا تھا، میں اس دن کے بارے میں کچھ یاد کرنا نہیں چاہتی اسے بھولنا چاہتے ہیں، اب کیا کر سکتے ہیں۔‘ حنا نے بتایا کہ اب ان کے کچھ پڑوسی نئے ہیں، سکون ہے اور انہیں کوئی ستاتا نہیں ہے۔ ’جب بیسٹ بیکری کیس میں سزا ہوئی تھی تو حالات کشیدہ ہوگئے تھے لیکن محلہ میں کافی پولیس موجود تھی اس لیے کچھ نہیں ہوا۔‘ بیسٹ بیکری کے آس پاس کے لوگ اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ رام سروپ کہتے ہیں ’ علاقہ دھوئیں سے بھر گیا تھامیں تو ڈر سے گاؤں بھاگ گیا اور چار ماہ بعد واپس آیا تھا۔‘ حنا نے بتایا کہ بیکری میں سترہ لوگ کام کیا کرتے تھے اور پورے شہر میں اس کا نام تھا۔’ زرا سی دیر میں سب بربادہوگیا اور پورا خاندان اس طرح اجڑا کہ سب تتر بتر ہوگئے۔‘ وہ کہتی ہیں سمیر اور صابرہ ہی ان کی دنیا ہیں جنہیں پال پوش کر وہ بڑا کریں گی اور انہیں اچھی تعلیم دینا چاہتی ۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||