مودی کو انتخابی کمیشن کا نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے وزیراعلٰی نریندر مودی کی جانب سے جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے سہراب الدین کی ہلاکت کو صحیح قرار دیے جانے پر انتخابی کمیشن نےان کے خلاف نوٹس بھیجا ہے۔ جبکہ اسی معاملے کے متعلق پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ مرکزی انتخابی کمیشن نے نریندر مودی کے خلاف جمعرات کو نوٹس بھیجا ہے اور سنیچر کی صبح سے پہلے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ منگل کو نریندر مودی نے اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران ایک ریلی میں سہراب الدین نامی شخص کے گجرات پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کو صحیح قرار دیا تھا۔ سہراب الدین شیخ گجرات پولیس کے انسدادِ دہشتگردی کے دستے اور راجستھان پولیس کی مشترکہ کارروائی میں 26 نومبر 2005 کو مارے گئے تھے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ’نریندر مودی کا انتخابی مہم کے دوران اپنی تقریر میں مرحوم سہراب الدین کو دہشت گردی میں ملوث قرار دینا دو براردریوں کے درمیان نفرت کو مزيد بڑھانے والی بات ہے اور اس بیان سے لسانی اور مذہبی نفرت، فرقہ واریت اور تنازعات میں اضافہ ہوسکتاہے‘۔ کمیشن کا کہنا ہےکہ مودی کا بیان انتخابی ضابطہ اخلاق کی بھی خلاف ورزی ہے۔’انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت انتخاب کے دوران عوام سے ذات اور فرقہ کی بنیاد پر ووٹ کے لیے اپیل نہیں کی جاسکتی ہے‘۔ سپریم کورٹ نے بھی ان کے بیان پر پیر کو سماعت کرنے کا وقت مقرر کیا ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے سہراب الدین شیخ کے بھائی رباالدین شیخ کے وکیل دوشینت دوے اور ایک اور عرضی گزار جاوید اختر کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ ان دونوں عرضیوں میں نریندر مودی کے ذریعہ سہراب الدین کو جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے کو صحیح ٹھہرانے کے جواز کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب نریندر مودی کے بیان پر سہراب الدین شیخ کیس میں ریاست کے سرکاری وکیل کے ٹی ایس تلسی نے بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی اور فوری طور پر اپنے آپ کو اس مقدمے سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت نے جمعہ کو کے ٹی ایس تلسی کی جگہ رنجیت کمار کو نیا سرکاری وکیل نامزد کیا ہے۔ واضح رہے کہ جمعرات کو نریندر مودی نے اپنا دفاع کرتے ہوئے مقامی خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’پولیس مقابلہ کوئی ایشو نہيں ہے اور جو بحث کا موضوع ہو سکتا ہے وہ ہے ’فرضی پولیس مقابلہ‘ اور میں کبھی بھی فرضی پولیس مقابلے کا حامی نہيں ہوں‘۔ نریندر مودی نے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے انہيں اکسایا اسے لیے انہوں نے’ہندوتو‘ کو انتخابی مہم کے دوران اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا ’جس زبان میں کانگریس ان سے بات کرے گی وہ اسی زبان میں جواب دیں گے، مجھے اس بات کا اختیار ہے کہ ميں اپنی دفاع کرروں‘۔
نریندر مودی کے اس بیان پر سیاسی حلقوں میں بھی زبردست نکتہ چینی کی گئی تھی۔ کانگریس، بائیں محاذ سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے نریندر مودی کے بیان کو شرمناک اور فرقہ وارانہ نفرت بڑھانے والا قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ سہراب الدین کیس اس وقت منظر عام پر آیا جب سہراب الدین کے بھائی رباب الدین نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی کہ پولیس کو حکم جاری کیا جائے کہ وہ ان کے لاپتہ بھائی کی بیوی کوثر بی بی کو پیش کریں۔ اس کے بعد ریاستی انتظامیہ نے عدالت کے سامنے قبول کیا تھا کہ سہراب الدین کے علاوہ ان کی بیوی کوثر بی بی کو بھی مار دیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں نریندر مودی کے بیان پر کڑی تنقید06 December, 2007 | انڈیا مودی: وہی ہوا جوہونا چاہیے تھا 05 December, 2007 | انڈیا مودی کے بیان پر مقدمے سے الگ06 December, 2007 | انڈیا وزیراعلی کے طور پر مودی پہلی پسند03 December, 2007 | انڈیا گجرات:اعلٰی افسران کی ضمانت مسترد15 November, 2007 | انڈیا فرضی تصادم،پولیس والوں کو عمر قید12 September, 2007 | انڈیا گجرات: سہراب کی بیوی بھی قتل30 April, 2007 | انڈیا جعلی جھڑپ میں ہلاکت پر احتجاج31 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||