BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 11:35 GMT 16:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسام کی ’گمشدہ‘ خواتین

آسام کی ’گمشدہ‘ لڑکیاں دلی اور ہریانہ سے برآمد کی گئی ہیں
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں شدت پسندی سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن ریاست کو دوسرے مسائل کا بھی سامنا ہے جنہیں اہم تصور نہیں کیا جاتا ہے۔گزشتہ دس برسوں میں ریاست میں ہزاروں کی تعداد میں عورتیں، بچے اورنوجوان لاپتہ ہوئے ہیں۔

ایک حالیہ پولیس رپورٹ کے مطابق ریاست میں انیس سو چھیانوے سے تین ہزار ایک سو چوراسی خواتین اور تین ہزار آٹھ سو چالیس بچیاں لاپتہ ہوئی ہیں، یعنی روزانہ اوسطاُ دو عورتیں یا بچیاں غائب ہوجاتی ہیں۔

یہ رپورٹ آسام پولیس اور اس کے تحقیقی شعبے بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ نے تیار کی ہے۔

آسام انٹیلیجنس پولیس کے سربراہ کھگن شرما کے مطابق ریاست میں پولیس کی ساری توانائی شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں لگی ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’کثیر تعداد میں پولیس کےجوان شدت پسندی کے خلاف لڑائی ميں مشغول ہیں اور اس وجہ سے دیگر جرائم پر وہ توجہ نہیں دے پاتے ہیں۔‘

 پوری دنیا میں نسلی لڑائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں خواتین کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے اور اس سے جنسی کاروبار کو ہوا ملتی ہے۔ آسام کے حالات اس سے مختلف نہیں ہیں۔
خاتون کارکن پاولا بنرجی
حال ہی میں آسام پولیس نے’ کال گرز‘ کے طور پر کام کر رہی آسام کی بعض لڑکیوں کو دلی اور ریاست پنجاب اور ہریانہ کے زمینداروں کے گھروں سے آزاد کرایا جو جنسی غلام کے طور پر وہاں کام کر رہی تھیں۔

آزاد کرائی گئي زیادہ تر لڑکیوں کا تعلق ریاست میں بےگھر ہونے والوں کے کیمپوں خاص طور پر کوکرا جھر ضلع سے ہے۔ کوکراجھر وہ علاقہ ہے جہاں انیس سو نوے کے عشرے کے آخری برسوں میں اندرونی گڑبڑ کے سبب بےگھر ہونے والے تقریبا ڈھائی لاکھ افراد آباد ہوئے تھے۔

کوکراجھر اور اس کے قریبی اضلاع میں انیس سو چورانوے سے اب تک بوڈو اور غیر بوڈو قبائلیوں کے مابین نسلی لڑائی میں تقریبا آٹھ سو افراد ہلا ک ہوئے ہیں۔

پولیس کی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ریاست میں باضابطہ طور ملازمت کے جعلی مراکز کھلے ہوئے ہیں جو خوبصورت لڑکیوں کو دوسری ریاستوں میں نوکری دلانے کا جھانسہ دیتے ہیں۔ پولیس اہلکار انل پھوکن کا کہنا ہے: ’ہم نے بعض فریبیوں کو گرفتار کیا ہے لیکن ہم اس کاروبار کو پوری طرح ختم نہيں کر پائے ہیں۔‘

اس کا طریقۂ کار بہت آسان ہے۔ شدت پسندی کے سبب بےگھر ہونے والوں کے لیے قائم کیمپوں میں رہنے والی لڑکیوں کو نوکری کی پیشکش کی جاتی ہے۔ لڑکیوں کے والدین کو کچھ ہزار روپے پیشگی کے طور پر دیے جاتے ہیں اور اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ جب آپ کی لڑکی کام کرنا شروع کر دے گی تو وہ پیسے بھیجنا شروع کر دےگی۔ لیکن ایک بار وہاں سے جانے کے بعد ایسا شاید ہی کبھی ہوتا ہے۔

کوکراجھر قصبے کے نزدیک جےپور ریلف کیمپ کے جام سنگھ لکرا کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ریلیف کیمپ سے کم سے کم بیس لڑکیاں نوکری کے لیے گئیں اور دوبارہ واپس نہيں آئیں۔‘ انہوں نے بتایا: ’ہم نے بھرتی کرنے والے بعض لوگوں کو پہچان لیا اور ان کی پٹائی بھی کی لیکن لڑکیوں کے جانے کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔‘

لڑکیوں کو نوکری کی پیشکش
 لڑکیوں کو نوکری کی پیشکش کی جاتی ہے۔ لڑکیوں کے والدین کو کچھ ہزار روپے پیشگی کے طور پر دیے جاتے ہیں اور اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ جب آپ کی لڑکی کام کرنا شروع کر دے گی تو وہ پیسے بھیجنا شروع کر دےگی۔ لیکن ایک بار وہاں سے جانے کے بعد ایسا شاید ہی کبھی ہوتا ہے۔
زیادہ تر خاندان گم شدگی کے بارے میں خاموش ہیں لیکن بعض آواز اٹھا رہے ہیں۔ تبلے گاؤں کی توئی لال مرڈی کا کہنا ہے: ’میرے والدین نے نوکری کی پیش کش کو قبول کیا اور میری بہن کو باہر بھیج دیا۔‘

بےگھرہونے والے متاثرین کے مسائل پر کام کرنے والی خاتون کارکن پاولا بنرجی کا کہنا ہے: ’پوری دنیا میں نسلی لڑائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں خواتین کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے اور اس سے جنسی کاروبار کو ہوا ملتی ہے۔ آسام کے حالات اس سے مختلف نہیں ہیں۔‘

لیکن آسام کی تمام خواتین کو باہر نہيں لے جایا گیا ہے۔ کچھ لڑکیاں مقامی فحش فلموں میں کام کرتی ہوئی پائی گئی ہیں۔ تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کوکراجھر میں بعض مقامی لڑکیوں کی پورنوگرافک فلمیں بنائی گئی ہیں اور اس فلم بنانے میں مقامی لیڈر ملوث رہے ہیں۔

لڑکیوں کو نوکری کی لالچ میں ہوٹل میں لایا جاتا ہے اور انہيں سافٹ ڈرِنکس میں نشہ آور اشیاء ملاکر پلایا جاتا ہے اور نشے یا بیہوشی کی حالت میں فحش فلمیں بنائی جاتی ہیں۔

’گمشدہ‘ لڑکیاں صرف کیمپوں سے نہیں آتیں۔

آسام پولیس کے ایک اعلی اہلکار نے بتایا: ’اندرانی بورا اور ریتو بورگو ہین خوبصورت اور تعلیم یافتہ انگریزی زبان بولنے والی ہیں اور آسام کے شہر گوہاٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہیں دلی کے نواح میں گڑگاؤں کے ایک گیسٹ ہاؤس میں نوکری ملی لیکن دونوں لڑکیوں کو کمپلیکس کے مالک نے رفتہ رفتہ اپنے جسم فروشی کے کاروبار میں ڈال دیا۔‘

کولکاتا میں واقع ایک ریسرچ گروپ کا کہنا ہے کہ آسام میں کمیپوں میں رہنے والے انتہائی غریبی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

انتہائی برے حالات کے سبب کیمپ کے باشندے شدت سے کام کی تلاش میں رہتے ہیں اور جب کہیں سے پیشکش آتی ہے تو وہ آسانی سے قبول کر لیتے ہیں خواہ وہ مشکوک لوگوں کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔

کولکتا میں سماجی مطالعے کے مرکز کی اودیپنا گوسوامی کہتی ہیں: ’یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی کیونکہ حکومت نے ان کیمپوں میں روزی کا کوئی ذریعہ مہیا نہیں کیا۔‘

جسم فروش خواتینسیکس ورکرز کی مدد
جسم فروش خواتین کے لیے قرض کی پیشکش
 سیکس وڈیوز: نجی زندگی، خفیہ فلمیںسیکس اور ٹیکنالوجی
سیکس وڈیوز: نجی زندگی، خفیہ فلمیں
 لڑکیوں کے امواتلڑکیوں کے اموات
الٹراساؤنڈ لڑکیوں کی جان کیوں لے رہا ہے
گھریلو تشدد پر قانون
انڈیا میں گھریلو تشدد پر جامع قانون نافذ
پردے پر بحث کیوں؟
ہندوستانی میڈیا میں پردے پر بحث
 حنا لیاقتانڈیا: مسلم خواتین
مسلم سماج میں خواتین کی ترقی کی رفتار سست
خواتین آگے ہی آگے
ورکنگ وومن کی تعداد میں اضافہ: سروے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد