 | | | علیحدگی پسند تنظیم الفا آسام کی خودمختاری کا مطالبہ کررہی ہے |
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں فوج اور باغیوں کے درمیان تصادم میں دو خواتین سمیت آٹھ مشتبہ باغی مارے گئے ہیں۔ فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ تصادم کے اس واقعے میں فوج کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچا ہے۔ فوج نے ریاست ميں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم یونائٹیڈ لِبریشن فرنٹ آف آسام یعنی الفا کے خلاف کاروائی تیز کی ہےاور رواں ماہ میں اب تک سولہ شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔ فوج کے ترجمان لفٹیننٹ کرنل نریندر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ گورکھا بٹالین کے جوانوں نے نم سائی کے گھنے حنگلوں ميں واقع کچھ جھونپڑیوں کا محاصرہ کر لیا اور منگل کی صبح ان میں چھپے ہوئے باغیوں پر حملہ کیا۔ ان جھونپڑیوں میں دو خواتین سمیت آٹھ شدت پسند چھپے ہوئے تھے۔ دونوں جانب سے دو گھنٹے تک گولی باری جاری رہی اور اس ميں سبھی باغی مارے گئے۔ کرنل نریندر نے بتایا کہ جھونپڑی سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود اور سیٹیلائٹ فون برآمد ہوا ہے۔ نم سائی جنگل آسام کے شمال میں واقع ہے۔ اس جنگل کی سرحد اروناچل پردیش سے ملتی ہے۔ فوج کا کہنا ہےکہ ان علاقوں میں الفا اپنے اڈے قائم کررہا ہے اور ان اڈوں سے باغی شمالی آسام میں واقع تیل اور گیس پائپ لائن کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ فوج نے اپنی کارروائی میں تیزی تب شروع کی جب الفا نے مرکزی حکومت سے بلا شرط بات چیت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ الفا کا مطالبہ ہے کہ بات چیت میں آسام کی خود مختاری کو کلیدی اہمیت دی جائے۔ |