ایک انوکھی کہانی، انوکھی فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ فلم ایک ایسے آدمی کی زندگی کے بارے میں ہے جو بڑھاپے سے جوانی اور پھر بچپن میں داخل ہوتا ہے۔ وقت کے عام تصور کے برخلاف بنائی جانے والی فلم ’کیوریس کیس آف بینجمن بٹن‘ انسان کی ذہنی عمر کے الٹے سفر کے بارے میں نہیں ہے بلکہ الٹی اور خالص جسمانی نشو نما کے بارے میں ہے۔ بینجمن بٹن نامی یہ بچہ اسی سال کا بوڑھا پیدا ہوتا ہے۔ اس کے عمر تو اسی سال ہے لیکن اس کا جسم بچوں جیسا ہے۔ اس کی ماں اسے پیدا کرتے ہوئے مر جاتی ہے۔ اس کا باپ اس کی شکل اور جسمانی حالت دیکھ کر بھوت پریت ہونے سے تعبیر کرتا اور اسے پالنے سے اٹھا کر باہر ایک اور گھر کے دروازے پر پھینک آتا ہے۔ جو دراصل ایک ریٹائرمنٹ ہوم یا بوڑھوں کی رہائش گاہ ہے۔ اس ریٹائرمنٹ ہوم کی نگراں کوئینی (تاراجی پی ہینسن) اس کی اپنے بچے کی طرح پرورش کرتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی ہی اولاد کی طرح سمجھنے لگتی ہے اور اس کی ماں اور باپ کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس پرورش اور عمر کے الٹے سفر کے دوران کوئینی پر کیا کیا گزرتی ہے اور بینجمن کو ایسے حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان غیر معمولی حالات میں انسانی رشتے کیسے بنتے بگڑتے ہیں؟ فلم اسی اتار چڑھاؤ کے بارے میں ہے۔ بینجمن بٹن کا کردار بریڈ پٹ نے ادا کیا ہے اور ان کے ساتھ مرکزی کرداروں میں کیٹ بلنشٹ، تارجی پی ہینسن، ٹیلڈا سونٹن اور جیسن فلیمنگ کے علاوہ کئی اہم اداکار اور اداکارائیں ہیں۔ فلم انیس سو بیس میں لکھی گئی ایف سکاٹ فٹس جیرالڈ کے کہانی پر بنائی گئی ہے۔ اس کہانی کو تو اپنے زمانے میں کوئی خاص توجہ حاصل نہیں ہو سکی لیکن ڈیوڈ فنچر کی ہدایات کاری میں اس پر فلم کے بعد اب بہت سے مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو انسانوں کی غیر معمولی محبت، غیر معمولی خوشیوں اور موت کی ایسی غیر معمولی اُداسی کے بارے میں ہے جو وقت سے بالا ہے۔
مبصرین کی اکثریت اس فلم کو فوراً ہی سال 2008 کی بہترین فلم قرار دینے لگ گئی ہے اور اسے بارہ شعبوں میں آسکر ایوارڈ کے کیے نامزد کیا گیا ہے جس میں بہترین فلم، بہترین اداکار، بہترین ہدایات اور میک اپ اور سنیماٹوگرافی کے شعبے بھی شامل ہیں۔ آسکر میں بینجمن بٹن کے مقابل ’سلم ڈاگ میلینر‘ اور ’دی ریڈر‘ بھی ہیں جن کے بارے میں کئی آسکروں کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں اور یہ دونوں فلمیں خاص طور پر اپنے موضوعات کے اعتبار سے الگ فلم سازی کے اعتبار بہترین ہیں۔ لیکن دی ریڈر اگر المیہ کے دائرے میں آتی ہے تو بینجمن بٹن ایک انوکھا رزمیہ ہے۔ بہترین فلموں کے آسکر کے لیے نامزد ہونے والی یہ تینوں فلمیں فلم بینوں کے لیے دلچسپی حاصل کر رہی ہیں لیکن باکس آفس پر زیادہ کامیابی کسے حاصل ہوتی اور کسے آخر کار زیادہ آسکر کا اعزاز حاصل ہوتا ہے اس کا فیصلے ابھی ہونا ہے لیکن یہ فلمیں ایک سے زیادہ بار دیکھے جانے کے قابل ہیں۔ |
اسی بارے میں سلم ڈاگ، برطانوی فلمی ایواڈز31 January, 2009 | فن فنکار سلم ڈوگ، آسکر کے لیےنامزدگیاں22 January, 2009 | فن فنکار آسکر ایوارڈز کے لیے ووٹنگ جاری24 December, 2008 | فن فنکار ’تارے زمیں پر‘ کی آسکر نامزدگی21 September, 2008 | فن فنکار ہالی وڈ لیجنڈ سڈنی پولک نہیں رہے28 May, 2008 | فن فنکار نائن الیون پر شک، تنقید کا سامنا03 March, 2008 | فن فنکار آسکرٹی وی ریٹنگ کم ترین سطح پر27 February, 2008 | فن فنکار اس سال آسکرز کون جیتے گا؟22 February, 2008 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||