ہالی وڈ لیجنڈ سڈنی پولک نہیں رہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار، پروڈیوسر اور اداکار سڈنی پولک تہتّر برس کی عمر میں لاس اینجلس میں انتقال کر گئے ہیں۔ پولک گزشتہ 10 مہینے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔ انہوں نے اپنے 50 سال کے فلمی کیریئر میں باکس آفس پر صرف کامیاب فلمیں ہی نہیں دیں بلکہ اپنے کام کے حوالے سے مسلسل ناقدین کی تعریف بھی پاتے رہے۔ سڈنی پولک نے ’ٹوٹسی‘ اور ’آؤٹ آف افریقہ ‘ جیسی بلاک بسٹر فلموں کی ہدایات دیں اور ’مائیکل کلیٹن‘ جیسی کامیاب فلموں کو پروڈیوس کیا۔ ’ٹوٹسی‘ کے لیے انہیں 1982 میں بہترین ہدایت کار کےطور پر آسکر کے لیے نامزد کیا گیا تھا جبکہ ’آؤٹ آف افریقہ ‘ کے لیے انہیں بہترین ہدایت کار کا آسکر اعزاز ملا۔ اس فلم کو کل سات آسکر ایوارڈز ملے تھے۔
پولک کو ڈائریکٹر کی حیثیت سے 1969 میں ’دے شوٹ ہارسز ڈانٹ دے‘ کے لیے بھی آسکر اعزاز کے لیے نامزد کیا گیا۔ اپنے کیریئر کے دوران پولک نے باکس آفس پر زبردست نام کمایا اورگزشتہ برس انہوں نے آسکر نامزد ’مائیکل کلیٹن ‘ کو پروڈیوس کیا اور فلم میں اداکاری بھی کی۔ فلم ہدایت کار اور ادکارہ جارج کلونی نے پولک کے انتقال پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ’سڈنی ایک ایسے شخص تھے جنہوں نے اس دنیا کو ایک بہتر دنیا بنایا۔ ان کی کمی ضرور محسوس ہوگی۔‘ یکم جولائی 1934 میں پیدا ہونے والے پولک دسویں کلاس پاس کرنے کے بعد اداکار کے طور پر اپنی قسمت آزمانے کے لیے نیویارک آئے۔ سڈنی پولک نے ٹیلیوژن میں ادکاری کرنے سے پہلے اداکاری کےمعروف ٹرینر سینفورڈ میسنر سے اداکاری کی ٹرینگ حاصل کی۔
1961 میں انہوں نے ٹیلی وژن کے لیے پروگرام بنانے شروع کیے اور اس کے چار برس بعد ہدایت کار کے طور پر ’دا سلنڈر تھریڈ‘ نام کی فلم بنائی۔ سڈنی پولک کہتے تھے کہ 70 کی دہائی فلمیں بنانے کے لحاظ سے ہالی وڈ کا گولڈن دور تھا۔ انہوں نے 2003 میں ایک انٹریو میں کہا تھا ’ 70 کی دہائی میں فلمیں بنانے کا تجربہ الگ تھا۔ جب فلموں کو اتنا پیسہ نہیں بنانا ہوتا تھا۔ آج کے تماشائی بنا وقت خرچ کیے، پرجوش فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔‘ اپنے کریئر کی کئی نامور فلمیں بنانے کے بعد 90 کے عشرے میں انہوں نے پروڈیوسر کے طور پرفلمیں بنائیں اور ’ دا فرم ‘ جیسی زبردست ہٹ فلم کی ہدایت کی۔ پولک کو آخری بار آسکر کے لیے انکی فلم ’ دا کلیوٹن ‘ کے لیے نامزد کیا گیا۔ پولک نے اپنی فلموں میں سماجی اور سیاسی مسائل کو اجاگر کیا اور اس لیے ہی 1960 سے 80 تک انکی فلموں کو نہ صرف شہرت بلکہ عزت بھی حاصل ہوئی۔ |
اسی بارے میں آسکرٹی وی ریٹنگ کم ترین سطح پر27 February, 2008 | فن فنکار ’سپرمین کی واپسی‘ 20 June, 2006 | فن فنکار ’ایکس مین‘ کا ریکارڈ بزنس31 May, 2006 | فن فنکار آسکر نامزدگی پر خوش ستارے01 February, 2006 | فن فنکار نفسیاتی علاج جعل سازی ہے: کروز28 June, 2005 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||