غریب نگر کا سچ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے باندرہ ریلوے سٹیشن سے متصل جھونپڑ پٹی میں جہاں جگہ جگہ کچرے کا انبار ہے، چھوٹی چھوٹی گلیوں اور بہتی گندی نالیوں کو عبور کر کے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے اُس ایک چھوٹی بچی کو ڈھونڈھ رہے ہیں جس نے برطانوی ہدایت کار ڈینی بوئل کی فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ میں اداکاری کی ہے۔فلم کو آسکر ایوارڈز میں دس زمروں میں نامزدگی کیا حاصل ہوئیں غریب نگر کی قمست ہی بدل گئی۔ ریل کی پٹریوں پر بیٹھے لوگ گپیں ہانک رہے، کبھی کبھی وہاں سے مال گاڑی بھی گزرتی ہے، کچھ لوگ تو پٹریوں پر اس لیے بھی بیٹھے ہیں کہ گھروں میں ہوا نہیں ہے۔ وجہ! وہاں کوئی کھڑکی یا روشن دان ہی نہیں ہے۔ یہ مکان چھ یا آٹھ مربع سکوائر فٹ کے ہیں جن کی دیواریں اور چھت سب ٹین کے ہیں۔ یہاں ہر جگہ کچرے کا انبار ہے۔ سامنے ہر منٹ پر گزرتی لوکل ٹرین اور پلیٹ فارم پر جمع لوگوں کا اژدہام۔ ننگے پیر کھیلتے بچے۔ انہی کے درمیان رہنے والی ایک چھوٹی بچی آج سٹار کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔
نو سالہ روبینہ رفیق قریشی آج کل سب کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔اس نے فلم میں ہیروئین کے بچپن کا کردار نبھایا ہے۔ تنگ و تاریک گلیوں پر مشتمل کچی بستی میں داخل ہوتے ہی اگر آپ صرف یہ پوچھ لیں کہ روبینہ کہاں رہتی ہے تو لوگ آپ کو اس کے گھر تک پہنچانے میں خوشی محسوس کریں گے۔گلی کے آخر میں سب سے آخری گھر روبینہ کا ہے۔ سامنے گندی نالی ہے۔ آپ کا پیر ذرا سا لڑکھڑایا اور آپ نالی کے اندر۔ روبینہ جو کبھی باندرہ کے سرکاری سکول میں جاتی اور اردو پڑھتی تھی اب انگریزی سکول جاتی ہے۔’ڈینی انکل بہت اچھے ہیں انہوں نے بڑے سکول میں داخلہ دلوایا ہے۔‘ بڑی بڑی آنکھوں والی روبینہ سکول سے ابھی واپس آئی ہے، کھانا بھی نہیں کھایا کہ پہلے سے انتظار کر رہے میڈیا کے لوگوں کے سوالات کا جواب بہت ہی خوشدلی کے ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔
فلم میں کام کرنے کے بعد روبینہ اور اس کے گھر کی قسمت بدل گئی۔حالانکہ گھر کی چھت اور دیوار ابھی بھی ٹین کی ہے لیکن اس پر رنگ و روغن لگا ہے۔ رنگین ٹی وی آگیا ہے اور روبینہ اب انگریزی میں کچھ جملے بھی بول لیتی ہے۔ روبینہ کے والد کو فخر ہے کہ آج ان کی بچی کی وجہ سے غریب نگر کو ایک پہچان ملی ہے۔ روبینہ بڑی ہو کر فلم سٹار بننا چاہتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اسی شعبہ نے تو اس کی زندگی بدل دی ہے۔ روبینہ اب بھی اپنے دوستوں کے ساتھ میدان میں کھیلتی ہے لیکن اب اس میں یہ احساس جاگ گیا ہے کہ یہ جگہ گندی ہے اور اسے صاف ستھرا رہنا چاہئے۔ روبینہ کی بہت سی سہلیاں ہیں جن کے ساتھ وہ کھیلا کرتی ہے لیکن ان کی تقدیر روبینہ کی طرح انہیں ہے۔ مسکان شیخ نے بھی روبینہ کی طرح شوٹنگ میں حصہ لیا تھا لیکن وہ صرف ننگ دھڑنگ غریب میلے کچیلے بچوں کی بھیڑ کا حصہ تھی۔ فلم کے ہیرو جمال کے بھائی سلیم کے بچپن کا کردار دس سالہ اظہرالدین نے نبھایا ہے جو کھلے آسمان میں کپڑے اور لکڑی کی بنی دیواروں سے بنے جھوپڑے میں اپنی ماں اور شرابی باپ کے ہمراہ رہتا ہے۔ پتھریلی زمین پر وہ اب بھی سوتا ہے۔گٹر کی پائپ لائن کے اندر سے گزر کر وہ ریلوے پلیٹ فارم پر منٹوں میں پہنچ جاتا ہے۔ چنچل اور شوخ اظہر ابھی بھی ننگے پیر ہی اپنے دوست ارباز کے ساتھ دوڑتا پھرتا ہے۔ ’ریل کی پٹریوں پر ریس لگانا اور چھپا چھپی کھیلنا اچھا لگتا ہے لیکن اب میں پڑھنا چاہتا ہوں اور پڑھ لکھ کر سلمان خان بنوں گا۔‘ فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ میں کچی بستیوں کی حقیقی تصویر پیش کرنے کی ڈینی کی کوششوں پر ملک بھر میں تنقید کی جا رہی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ روبینہ ، اظہر، مسکان اور ارباز کی طرح ممبئی میں لاکھوں بچے جس طرح کی زندگی اب تک گزار رہے ہیں وہ فلم میں دکھائی گئی تصویر سے زیادہ بھیانک ہے۔ | اسی بارے میں ’سلم ڈاگ‘ کے لیے ایک اور ایوارڈ25 January, 2009 | فن فنکار سلم ڈوگ، آسکر کے لیےنامزدگیاں22 January, 2009 | فن فنکار ’ہالی وڈ اور بالی وڈ کا عظیم ملاپ‘ 23 January, 2009 | فن فنکار ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کے چار ایوارڈ12 January, 2009 | فن فنکار ڈارک نائٹ کے لیے پانچ ایوارڈز08 January, 2009 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||