’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کے چار ایوارڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی کچی بستی میں پروان چڑھنے والے ایک لڑکے کی کہانی پر مبنی فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کو لاس اینجلس میں ہونے والے چھیاسٹھویں سالانہ گولڈن گلوب ایوارڈز میں بہترین فلم قرار دیا گیا ہے۔ ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کے لیے ہی برطانوی ہدایتکار ڈینی بوائل کو بہترین ڈائریکٹر کا گولڈن گلوب ایوارڈ دیا گیا ہے جبکہ اسی فلم کے لیے بہترین سکرین پلے کا ایوارڈ سائمن بیوفوئے اور بہترین موسیقی کا ایوارڈ بھارتی موسیقار اے آر رحمان کو ملا ہے۔ ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کو چار شعبوں میں گولڈن گلوب ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور اس نے چاروں ایوارڈ جیتے ہیں۔ مکی رورک نے فلم ’ریسلر‘ کے لیے بہترین اداکار جبکہ برطانوی ادکارہ کیٹ ونسلٹ نے فلم ’ریولیوشنری روڈ‘ کے لیے بہترین اداکارہ جبکہ فلم ’دا ریڈر‘ میں جرمن خاتون کے کردار کے لیے بہترین معاون اداکارہ کا گولڈن گلوب جیتا ہے۔
ادکارہ سیلی ہاکنز کو فلم ’ہیپی گو لکی‘ کے لیے مزاحیہ فلم کی بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا ہے جبکہ مرد اداکاروں میں یہ اعزاز کولن فیرل کے حصے میں آیا ہے۔ ’وکی کرسٹینا بارسلونا‘ نے اس شعبے میں بہترین فلم کا اعزاز جیتا۔ دیگر ایوارڈز میں آنجہانی اداکار ہیتھ لیجر کو بیٹ مین سیریز کی حالیہ فلم ’دا ڈارک نائٹ‘ میں ’جوکر‘ نامی ولن کا کردار ادا کرنے پر بعدازمرگ بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔ لیجر کا ایوارڈ ’دا ڈارک نائٹ‘ کے ہدایتکار کرسٹوفر نولین نے وصول کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اٹھائیس برس کی عمر میں ہیتھ لیجر کی موت نے سنیما کے مستقبل میں ایک خلاء پیدا کر دیا ہے۔گولڈن گلوب ایوارڈز کے بعد ہیتھ لیجر کو آئندہ ماہ ہونے والے آسکرز کے لیے بھی ایک مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ کارٹون فلم ’وال ای‘ کو بہترین اینیمیٹڈ فیچر فلم اور مشرقِ وسطٰی میں فلسطینیوں کے قتل عام پر بنائی گئی ’اینیمیٹڈ‘ فلم ’والٹز ودھ بشیر‘ کو غیر ملکی زبان میں بنائی جانے والی بہترین فلم کا گولڈن گلوب ایوارڈ ملا۔
’والٹز ودھ بشیر‘ کے ہدایت کار بریجٹ فولمان ہیں جو اسرائیل فوج میں اپنی ملازمت کے دوران انیس سو بیاسی میں لبنان حملے کے دوران ڈھائے جانے والے مظالم کے عینی شاہد ہیں۔ ’جاز‘ اور ’سیونگ پرائیوٹ ریان‘ جیسی فلموں کے خالق ہدایتکار اور فلمسااز سٹیون سپیل برگ کو سنیما کی لیے ان کی گرانقدر خدمات پر سیسل بی ڈی میل لائف ٹائم اچیومنٹ ایواڈ دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ عام طور پرگولڈن گلوب ایوارڈز حاصل کرنے والی فلمیں اور فنکار ہی فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈز آسکرز کے لیے فیورٹ سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں قریباً ساٹھ فیصد مواقع پر گولڈن گلوب جیتنے والوں نے ہی اکیڈمی ایوارڈز جیتے ہیں۔ | اسی بارے میں ٹورانٹو: انڈین فلم بہترین قرار پائی 14 September, 2008 | فن فنکار ڈارک نائٹ کے لیے پانچ ایوارڈز08 January, 2009 | فن فنکار ’والٹز ودھ بشیر‘ سال کی بہترین فلم 04 January, 2009 | فن فنکار آسکر ایوارڈز کے لیے ووٹنگ جاری24 December, 2008 | فن فنکار امریکہ:’بیٹ مین‘ کا ریکارڈ بزنس06 August, 2008 | فن فنکار بیٹ مین کی فلم باکس آفس پر ہٹ28 July, 2008 | فن فنکار بیٹ مین فلم کی ریکارڈ آمدن20 July, 2008 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||