بچن کی سلم ڈاگ ملینیئر پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امیتابھ بچن نے انگریزی زبان کی ایوارڈ حاصل کرنے والی فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ پر تنقید کی ہے کہ اس میں انڈیا کو تیسری دنیا کے ایک گندے ملک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ برطانوی ہدایتکار ڈینی بائل کی اس فلم نے گولڈن گلوب اور کریٹکس چوائس ایوارڈ کی تقاریب میں میدان مار لیا ہے۔ فِلم انڈیا کے سفارتکار وِکاس سواروپ کی کتاب پر مبنی ہے جس کا مرکزی کردار غیر متوقع طور پر انگریزی پروگرام ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ جیت کر امیر ہو جاتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ فلم آسکر ایوارڈ بھی جیت جائے گی۔ امیتابھ بچن نے انگریزی پروگرام کی طرز پر انڈیا میں بننے والے پروگرام ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کی میزبانی کی تھی۔ امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ اگر سلم ڈاگ ملینیئر انڈیا کو ایک تیسرے دنیا کے غریب ملک کے طور پر دکھاتا ہے اور اس سے قوم پرستوں اور محب وطن لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو یہ واضح ہونا چاہیے اس طرح کی غربت دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس فلم کا خیال انڈیا کے ایک شہری نے پیش کیا اور اسے ایک مغربی شہری نے فلمی شکل دی اور اسے ایوارڈ مل گئے جبکہ کسی اور کو نہ ملتے۔ امیتابھ بچن نے اپنے چالیس سالہ فلمی کیریئر میں ایک سو چالیس فلموں میں کام کیا ہے۔ انہیں انیس سو ننانوے میں بی بی سی نیوز ویب سائٹ کی رائے شماری میں ہزاریئے کے عظیم ترین اداکار قرار پائے تھے۔ اس مقابلے میں مارلن برانڈو اور چارلی چیپلن بھی شالم تھے۔ | اسی بارے میں ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کے چار ایوارڈ12 January, 2009 | فن فنکار ڈارک نائٹ کے لیے پانچ ایوارڈز08 January, 2009 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||