بڑے بجٹ کی فلاپ فلموں کا سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ میں سال دو ہزار آٹھ کو اگر بڑے بجٹ کی فلاپ اور بے معنی کامیڈی کی کامیاب فلموں کا سال کہا جائے تو بے جا نہیں ہو گا۔البتہ سال کے آخر میں شاہ رخ کی فلم’رب نے بنا دی جوڑی‘ نے اگر انڈسٹری کو تھوڑا سنبھالا تو وہیں عامر خان کی’گھجنی‘ نے ریکارڈ توڑ بزنس کی ابتداء کر دی۔ اس سال ایسی کوئی فلم ناظرین نہیں دیکھ سکے جسے کہا جائے کہ وہ ایک اچھی تخلیقی فلم تھی۔ دو سو سے زیادہ فلمیں بنانے والی اس بھارتی فلمی صنعت کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے۔
اس سال جہاں کروڑوں روپے سے بننے والی فلمیں درونا ، لو سٹوری دو ہزار پچاس، قرض، ٹشن ، گاڈ تسی گریٹ ہو ، تھوڑا پیار تھوڑا میجک اور یوراج بری طرح فلاپ ہوئیں وہیں اے ویڈنیسڈے ، ویلکم ٹو سجن پور اور رام گوپال ورما کی ' پھونک جیسی چھوٹے بجٹ کی فلمیں حیرت انگیز طور پر باکس آفس پر کامیاب ہوئیں۔ اکشے کمار کی فلمیں ہمیشہ باکس آفس پر کامیاب رہتی ہیں لیکن اس سال ان کی فلم ’ٹشن‘ فلاپ ہو گئی البتہ بے معنی کامیڈی کے باوجود اکشے کی ’سنگھ از کنگ‘ اور اجے دیوگن کی ’گول مال ریٹنز‘ نے اچھا بزنس کیا۔ شاہ رخ خان کے لیے یہ سال کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا ان کا ٹی وی شو’ کیا آپ پانچویں پاس سے تیز ہیں‘ ، تقریباً فلاپ ہی تھا لیکن سال کے آخر میں ان کی فلم ’رب نے بنا دی جوڑی‘ باکس آفس پر کامیاب رہی۔ سلمان خان کے لیے پورا سال فلاپ فلموں کا تھا۔ان کی اس سال کئی فلمیں آئیں لیکن سب باکس آفس پر منہ کے بل ڈھیر ہو گئیں۔گاڈ تسی گریٹ ہو ، یوراج ، اور ہیلو فلاپ ثابت ہوئیں البتہ’ہیروز‘ کی کہانی کو جس میں سلمان خان کے ساتھ پریتی زنٹا ،سنی دیول اور بابی دیول تھے کچھ حد تک لوگوں نے پسند کیا۔
سلمان خان کا ٹی وی شو ’دس کا دم‘ البتہ لوگوں میں کافی مقبول ہوا اور اس برس صرف یہی کامیابی سلمان کی جھولی میں آئی ہے۔ ابھیشک کی ’درونا‘ جس سے صرف ابھیشیک ہی نہیں ان کے پاپا یعنی امیتابھ بچن کو بھی بہت امیدیں تھیں، سپر فلاپ فلم ثابت ہوئی لیکن جان ابراہام کے ساتھ ان کی فلم ’دوستانہ‘ نے اچھا بزنس کیا۔ کرن جوہر پروڈکشن کمپنی کی اس فلم نے فلمی دنیا میں ’ہم جنس پرستی‘ کے موضوع کو ایک اچھے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس سال عامر خان کے بھانجے عمران خان نے نئے ہیرو کے زمرے میں اچھا آغاز کیا۔ ان کی فلم ’جانے تو یا جانے نہ‘ بےحد مقبول ہوئی۔ کالج طلباء اور جوانوں میں اس کے نغمے آج بھی بے حد مقبول ہیں۔ اے آر رحمان نے بطور موسیقار اپنی چھاپ چھوڑ۔ ان کی منفرد موسیقی کی وجہ سے انہیں ان کی فلم ’سلم ڈاگ ملینئیر‘ کی موسیقی پرگولڈن گلوب ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ اس برس مدھر بھنڈارکر کی فلم ’فیشن‘ ، فرحان اختر کی فلم ’راک آن‘ اور عمران ہاشمی کی فلم ’جنت‘ کا ذکر نہ کیا جائے تو ناانصافی ہو گی۔ مدھر سے جتنی توقعات تھیں فلم اس درجہ کی نہیں تھی پھر بھی موضوع اچھا تھا۔ فرحان اختر نے ہدایت کاری اور اداکاری میں تو اپنا لوہا منوا لیا تھا لیکن ان کا ایک نیا فن سامنے آیا اور وہ تھا گلوکاری کا۔ ان کی آواز اور انداز کو بہت پسند کیا گیا۔
ان چند فلموں کو اگر الگ کریں تو سارا سال بے جان اور فلاپ فلموں کے بعد دسمبر میں شاہ رخ کی فلم ’رب نے بنا دی جوڑی‘ نے باکس آفس پر ہنگامہ مچایا۔ فلموں کے تجارتی تجزیہ نگار امود مہرہ کے مطابق ’رب نے بنا دی جوڑی نے‘ ہندستان اور غیر ممالک میں نوے کروڑ روپے کا بزنس کیا لیکن فلم ’گھجنی‘ نے اس سال باکس آفس پر ریکارڈ قائم کر دیا۔ عامر خان کی فلم ’گھجنی‘ ایک ایسی فلم ثابت ہوئی جس نے ملٹی پلیکس کے دور میں ابتدائی بکنگ کی تاریخ قائم کر دی۔ ستر فیصد سے زائد ٹکٹ پہلے سے بک کر لیے گئے تھے۔اس لیے یہ رقم چار گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس فلم کے لیے عامر نے تشہیر کا نیا انداز اپنایا انہوں نے اپنے کسرتی جسم اور اپنے ہیئر سٹائل کو اس انداز میں پبلسٹی دی کہ بیشتر تشہیری کمپنیوں نے انہیں اپنا استاد مان لیا۔ بڑے بڑے بالی وڈ ستاروں کے لیے یہ سال فلاپ رہا۔ رانی مکھرجی کی تمام فلمیں فلاپ ہوئیں۔ امیتابھ بچن بھی اپنی فلموں کے ذریعہ کوئی چھاپ چھوڑنے میں ناکام ہی رہے۔ایشوریہ رائے کی فلم جودھا اکبر کامیاب رہی لیکن ان کے ہاتھ سے کئی بڑے اشتہار چلے گئے البتہ قطرینہ کیف اور کرینہ کپور کو اس سال کی کامیاب اداکارائیں کہا جا سکتا ہے۔ عامر اور شاہ رخ کے بعد انیل کپور کی فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کی کامیابی نے ان کے سر پر تاج رکھا ہے۔
پوری دنیا میں آئے اقتصادی بحران سے بالی وڈ بزنس بھی بچ نہ سکا۔ کئی بڑی فلمی کمپنیوں نے اپنے کئی بڑے منصوبے بند کر دیے۔ ایکتا کپور نے سنجے دت کی کمپنی کے ساتھ بنائی گئی دو فلموں’ کڈنیپ‘ اور ’ای ایم آئی‘ کے فلاپ ہونے کے بعد پانچ سو کروڑ کا معاہدہ توڑ دیا جبکہ کئی بڑے ستاروں نے اپنی فیس میں کٹوتی کا اعلان کیا۔ اس سال بے جان سی فلموں کے بعد آئندہ برس چند اچھی فلمیں قطار میں ہیں جن میں اکشے کی ’چاندنی چوک ٹو چائنا‘، ’بلیو‘، ’ایٹ بائی ٹین‘ اور ’دے دھنا دھن ہیں۔ عامر خان کو چند برسوں سے دسمبر مہینہ ہی پسند آتا ہے اس لیے بھی تو آئندہ برس ایک بار پھر وہ اپنی فلم ’ تھری ایڈئٹس‘ کو دسمبر میں نمائش کے لیے پیش کریں گے البتہ شاہ رخ خان کی اپنی فلم’بلو باربر‘ اور کرن جوہر کمپنی کے ساتھ ’مائی نیم از خان‘، سلمان کی ’وانٹڈ ڈیڈ اور الائیو‘ کے بعد ’لندن ڈریمز‘ سے ان کے پرستاروں کو کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ دنیا میں ہندستانی فلمی صنعت کا اپنا ایک مقام ہے اور اسے ہر برس سب سے زیادہ فلمیں بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔تجارتی نقطہ نظر سے بھی اس انڈسٹری کو ایک درجہ حاصل ہے اس کے باوجود فلاپ فلمیں ہی ناظرین کی جھولی میں آتی ہیں۔ مہرہ کے مطابق آئندہ برس تجارتی نظریہ سے تو بہتر ثابت ہو گا لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ فلمساز تیکنیکی جدیدیت کے ساتھ فلم کی سکرپٹ اور کہانی پر کچھ زیادہ زور دیں تو شاید کم بجٹ کے ساتھ ناظرین صحیح معنوں میں تفریح کا لطف اٹھا سکیں۔ |
اسی بارے میں کرینہ کا بوسہ اور سری دیوی کا انکار29 July, 2008 | فن فنکار بم دھماکوں اور تشدد پر فلمیں05 September, 2008 | فن فنکار امیتابھ بچن نے معافی مانگ لی11 September, 2008 | فن فنکار وادی میں شوٹنگ اور ملکہ بیمار29 September, 2008 | فن فنکار کونکنا کیوں ہم حنس پرست بننا چاہتی ہیں؟25 November, 2008 | فن فنکار پاکستانی فنکاروں کو دھمکی 05 December, 2008 | فن فنکار ڈیڑھ ہزار عامر اور دو لاکھ کے باؤنسر!15 December, 2008 | فن فنکار شاہ رخ ایک پاور فل شخصیت22 December, 2008 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||