BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 December, 2007, 07:34 GMT 12:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلم ’شعلے‘ کے خالق چل بسے

شعلے فلم
’شعلے‘ کے ڈائیلاگ روز مرہ کی زندگی میں عام ہوگئے
بالی وڈ کی مشہور سپر ہٹ فلم ’شعلے‘ کے خالق جی پی سپی کا منگل کی رات طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ سپی کا شمار بالی وڈ کے بہترین فلمسازوں میں ہوتا تھا۔

اس برس چودہ ستمبر کو انہوں نے اپنی زندگی کے ترانوے سال مکمل کیے تھے۔ انہوں نے بہت سی کامیاب فلمیں بنائیں لیکن انہیں فلم ’شعلے‘ کے پروڈیوسر کی حیثیت سے لافانی شہرت حاصل ہوئی۔

بھارتی فلمی صنعت میں جی پی سپی یعنی گوپال داس پریم چند سپی ایک قابل احترام شخصیت مانے جاتے تھے۔ فلم اینڈ ٹی وی پروڈیسرز گلڈ کے وہ کم سے کم تین دہائیوں تک چیئرمین ر ہے تھے۔ ان کی فلمی خدمات کے لیے انہیں دوبار فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گيا تھا۔

جی پی سپی کا جنم ایک امیر سندھی خاندان میں ہوا تھا اور انہوں نے اپنے کریئر کی شروعات تجارت سے کی تھی۔ پہلے انہوں نے قالین فروخت کیے پھر تعمیراتی بزنس شروع کیا۔ لیکن انہیں تسلی نہیں ہوئی اور ان کا تخلیقی ذہن انہیں فلمسازی کے شعبہ کی طرف لےگیا۔

سپی نے انیس سو پچپن میں اپنی پہلی کامیاب فلم ’مرین ڈرائیو‘ بنائی۔اس کے بعد پردیپ کمار، مینا کماری اور درگا کھوٹے جیسے بڑے اداکاروں کو ساتھ لے کر انہوں نے ’عدل جہانگیر‘ بنائی جو ایک کامیاب فلم تھی۔

شعلے میں گبّر کا کردار امجد خان نے کیا تھا جسے ہیرو کے رول سے زیادہ پزیرائی ملی تھی
تاریخی اور سماجی فلموں کے ساتھ انہوں نے کئی کمرشیل فلمیں بھی بنائیں۔انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں انہوں نے کئی کامیاب فلمیں بنانے کے ساتھ ساتھ چند فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔ شریمتی چار سو بیس، چندرکانت، لائٹ ہاؤس، بھائی بہن اپنے دور کی کامیاب فلمیں مانی جاتی ہیں۔

سپی نے اپنے بیٹے رمیش سپی کو ساتھ لےکر ہیمامالنی، دھرمیندر اور سنجیو کمار کے ساتھ فلم سیتا اور گیتا بنائی۔ ڈمپل کپاڈیہ، کمل ہاسن اور رشی کپور کے ساتھ فلم ساگر بھی انہیں کی تخلیق ہے۔

انیس سو پچہتر میں بنی فلم’ شعلے‘ بالی وڈ کی سب سے کامیاب فلم بن کر ابھری۔ یہ ان کے بینر کے نیچے بنی ایک شاہکار فلم ہے جو بالی وڈ کی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ آج تک اس فلم کی کاپی کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اس فلم کی ہدایت جی پی سپی کے بیٹے رمیش سپی نے دی تھی۔

سپی کا سفر یہیں نہیں تھما۔ انہوں نے شاہ رخ کے ساتھ کامیاب فلم ’راجو بن گیا جینٹلمین ‘ بنائی۔ تاہم ایسا نہیں تھا کہ انہیں ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑا ہو۔ ان کی کئی فمیں فلاپ بھی ہوئیں۔ آتش اور زمانہ دیوانہ ان کی ناکام فلموں میں شمار کی جا سکتی ہیں۔ لیکن فلمیں بنانا سپی کے لیے ایک تجارت سے زیادہ ان کی فنی تشنگی کو پورا کرنے کا ذریعہ تھا۔

امیتابھامیتابھ بنے ویلین
اینگری ینگ مین اب بیڈمین
ہیما مالنیایک ملاقات
ساٹھ بہاریں دیکھنے والی ہیما مالنی آج بھی جوان
 امیتابھ تیرا جادو چل گیا
امیتابھ بچن کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے
شعیب اختر’فلمی کرکٹرز‘
کرکٹرز کا فلموں میں کام کرنا نئی بات نہیں
تارے زمیں پر’تارے زمیں پر‘
اداکار عامر خان کی بطور ہدایتکار پہلی فلم
کرینہ کپوربالی وڈ ڈائری
جان کے انڈرویئر، کرینہ کی فِیس، سوہا کا رشتہ
اسی بارے میں
مالےگاؤں کی منفرد فلمیں
26 August, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد