BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 June, 2006, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مجھے وِلن کے کردار پسند ہیں‘

رتیک روشن
ریتک روشن کا کہنا ہے کہ ’کرش‘ ہالی ووڈ کے سپرمین کا جواب ہو گی
عامر خان کی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ اور ’فنا‘ کے بعد اب رتیک روشن کا نمبر ہے۔ ان کی فلم ’ کوئی مل گیا‘ کا سیکوئیل ’ کرش‘ تیار ہے اور اسے جون میں ہی نمائش کے لیئے پیش کیا جائے گا۔

رتیک اپنی اس فلم کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں کیونکہ خود رتیک اوران کے والد اور فلمساز راکیش روشن کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ ان کی یہ فلم ہالی وڈ کی فلم ’سپرمین‘ کا جواب ہوگی۔

اس کے علاوہ رتیک نرمدا بچاؤ آندولن کے سلسلے میں عامر خان کا کھل کر ساتھ دینے پر بھی خبروں میں ہیں۔ گو کہ عامر کی طرح ان کے بیانات کا بھی غلط مطلب نکالا گیا تاہم کہیں مظاہرے نہیں ہوئے۔

فلم’ کہو نا پیار ہے‘ سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کرنے والے رتیک روشن نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ایک خصوصی ملاقات میں اپنے اندر کے فنکار، آج کل کی فلموں کی کامیابی اور ناکامی، عامر خان کے معاملہ اور اپنے والد کی فلمسازی پر کھل کر بات کی۔

’ کرش‘ انڈین سنیما کو ایک نیا انداز دے گی

رتیک روشن کی نظر میں ان کی آنے والی فلم ’ کرش‘ انڈین سنیما کو ایک نیا انداز دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ فلم کامیاب ہو گئی تو اس فلم کا تیسرا حصہ بھی بنایا جائے گا لیکن پہلے یہ دیکھنا ہے کہ لوگ اس فلم کو کس حد تک پسند کرتے ہیں۔ پاپا (راکیش روشن) نے ایک بڑے بجٹ کی فلم بنائی ہے اور اس میں سپیشل افیکٹس اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔اگر یہ فلم کامیاب ہوتی ہے تو فلم انڈسٹری کے دیگر فلمساز بھی اس طرح کی فلمیں بنانے کی ہمت کر سکیں گے‘۔

اس سوال پر کہ وہ اب تک صرف اپنے والد کی فلموں میں ہی کیوں کامیاب رہے ہیں، رتیک کا کہنا تھا کہ ’میرے والد ایک اچھے فلمساز ہیں اور انہوں نے ہمیشہ مجھے اچھے رول دیئے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھنا چاہئیے کہ عوام کی پسند کیا ہے۔ کچھ اچھی فلمیں بھی نہیں چل پاتیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ فلمساز نے فلم اچھی نہیں بنائی۔ کبھی فلم کی تشہیر اچھی طرح نہیں ہوتی اس لیئے بھی فلم فلاپ ہو جاتی ہے۔ میرے پاپا کی بنائی فلمیں ہمیشہ کامیاب رہی ہیں اور آپ اچھی فلموں کی ہی تو تعریف کریں گے۔ ایک پینٹنگ کی مثال لے لیجیئے اگر پینٹنگ اچھی ہے تو آپ اس کے رنگوں، اس کے اندر کے فن اور خوبصورتی کی بات کریں گے لیکن اگر پینٹنگ سرے سے اچھی نہیں تو پھر آپ اس کا ذکر بھی نہیں کریں گے یہی معاملہ فلموں کا ہے اگر فلم اچھی ہے تو اس کی کہانی، نغمے اور مکالمے سب کی بات کرتے ہیں‘۔

رتیک
’پاپا نے مجھے اچھے رول دیئے ہیں‘

رتیک کا کہنا ہے کہ ’فلم کی تشہیر کے لیئے منفی پبلسٹی دیرپا نہیں ہوتی اور فلم صرف ایک ہفتہ یا دو ہفتے چل سکتی ہے۔ فلم کی کہانی، کرداروں کی اداکاری اور نغمے یہ سب باتیں فلم کی کامیابی کے ضامن ہوتے ہیں‘۔

عامر خان کی حمایت کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ’دوسرے اداکار شاید اس وقت زیادہ مصروف رہے ہوں گے کئی تو ملک سے باہر ہیں جب میں بھی اپنی فلم ’ کوئی مل گیا‘ کی شوٹنگ کر رہا تھا تو ایک سال تک میں نے اخبارات تک نہیں پڑھے تھے اس لیئے میں کہہ سکتا ہوں کہ پوری فلم انڈسٹری عامر جی کے ساتھ ہے‘۔

رتیک نے اس بات سے انکار کیا کہ ’عامر چونکہ مسلمان ہیں اس لیئے ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے ۔میرے خیال میں یہ سب انا کا مسئلہ بن گیا ہے اور سیاست چل رہی ہے۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ جمہوری ملک ہے یہاں ہر انسان کو بولنے کا حق حاصل ہے عامر نے اپنے اسی حق کا استعمال کیا ہے۔ مجھے گجرات کے نرمدا ڈیم کے بارے میں جانکاری نہیں ہے میں کسی پر الزام بھی عائد نہیں کر رہا ہوں لیکن اگر وہاں کی سیاسی پارٹی کے لوگوں نے ڈسٹری بیوٹرز اور تھیٹرز مالکان کو دھمکایا ہے تو یہ انتہائی غلط بات ہے، غیر قانونی
ہے

’یہ جمہوری ملک ہے یہاں ہر انسان کو بولنے کا حق حاصل ہے عامر نے اپنے اسی حق کا استعمال کیا ہے‘
اور ہمیں اس کے خلاف لڑنا چاہیئے۔ میں نے جب اس طرح کے بیانات دیئے تو چند اخبارات نے اسے توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ میں کوئی سیاست داں نہیں ہوں اور نہ سیاست میں دلچسپی رکھتا ہوں لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک فلم سنسر بورڈ پاس کرتا ہے اور کسی کے کچھ کہہ دینے پر وہ فلم ہی روک دی جاتی ہے یہ تو پوری انڈسٹری کو دھمکانے کے مترادف ہے‘۔

رتیک نے ملاقات کے دوران کئی مرتبہ کہا کہ ’آپ اگر ضرور لکھیئے گا یعنی اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو غلط ہے کیونکہ میں بلاوجہ کسی پر الزام تراشی نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ نے ’اگر‘ لفظ کا استعمال نہیں کیا تو وہ میرے بھی پیچھے پڑ سکتے ہیں‘۔

’پاپا کے بعد میں آشوتوش کا بہت بڑا فین ہوں‘

رتیک فلم ’دھوم پارٹ ٹو‘ میں ولن کا کردار نبھائیں گے۔ فلمی کیرئر میں یہ ان کا پہلا منفی کردار ہو گا اور رتیک اس پر بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں فلموں میں اچھا انسان اور ہیرو بنتے بنتے تھک گیا تھا۔ فلم ’دھوم 2‘ میں ولن کے کردار کی پیشکش ہوئی تومیں بہت خوش ہوا۔ فنکار کواگر اپنے اندر کے فن کو سامنے لانے کا کوئی اچھا موقع ملے تو اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہو سکتی ہے اور ولن کے کردار میں کئی رنگ ہوتے ہیں۔ اداکاری کے کافی مواقع ملتے ہیں میری تو دلی تمنا پوری ہوئی ہے‘۔

رتیک آشوتوش گواریکر کی فلم ’جودھا اکبر‘ میں بھی کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’پاپا کے بعد میں آشوتوش کا بہت بڑا فین ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ان کی فلم ایک بہترین فلم ہوگی‘۔

رتیک اپنے والد راکیش روشن کی طرح فلمساز بننا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں زندگی میں کبھی بھی فلمساز نہیں بنوں گا مجھے لگتا ہے کہ میرے اندر کے فنکار کو عمر کی آخری حد تک تسلی نہیں ملے گی اس لیئے ہمیشہ اداکاری کو ہی اولیت دوں گا‘۔

کرینہبالی وڈ ڈائری
عامر کی ویب سائٹ اور کرینہ کی معافی
ریکھابالی وڈ ڈائری
ریکھا کے نخرے اور راکھی کے آئٹم نمبر
 سلیم اختر کے داماد سمیر آفتاب ’ہندو‘ میں اداکار ہوں گےویرزارا کے بعد ’ہندو‘
سرحد پار سچے عشق پر فلم ’ہندو‘
بالی وڈ ڈائری
امیتابھ اور شاہ رخ خان میں مقابلہ
شاہ رخ خانبالی وڈ ڈائری
شاہ رخ کی ٹیم،ابوسالم کی تلاش اور قطرینہ کا نخرہ
اسی بارے میں
’یہ ہے بالی وڈ میری جان‘
03 April, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد