موغادیشو میں ہوٹل پر حملہ، نو ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
افریقی ملک صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ایک ہوٹل پر مسلح شدت پسندوں کے حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم الشباب کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔
جمعے کو پیش آنے والے واقعے میں حملہ آوروں نے پہلے صومالی یوتھ لیگ ہوٹل کے باہر کار بم دھماکہ کیا اور پھر ہوٹل کے اندر داخل ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہوٹل پر حملہ کرنے والے چاروں افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور صورتحال قابو میں ہے۔
موغادیشو میں بی بی سی کے نمائندے ابراہیم عدن کے مطابق انھوں نے جمعے کی شام ایک زوردار دھماکہ اور پھر فائرنگ کی آوازیں سنیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پہلے دھماکے کے 40 منٹ بعد اسی شدت کا ایک اور زوردار دھماکہ بھی ہوا۔
الشباب نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہوٹل کا کنٹرول ان کے پاس ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ایس وائی ایل ہوٹل پر حملہ کیا اور عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب رہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ہوٹل میں مقیم ایک شخص نے بی بی سی کی صومالی سروس کو بتایا کہ حملہ آور ہوٹل کی عمارت کے اندر داخل نہیں ہو سکے اور محافظین نے انھیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
حملے کا نشانہ بننے والا ہوٹل صدارتی محل کے قریب واقع ہے اور سرکاری حکام میں بہت مقبول ہے۔







