موغادیشو: ساحلی ریسٹورنٹس پر حملہ، کیفے پر الشباب کا قبضہ

،تصویر کا ذریعہEPA
صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ساحل سمندر پر مشہور ریسٹورنٹس پر کار بم دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی صومالیہ کے مطابق پہلے شام کو کار بم دھماکہ ہوئے جس کے بعد کم از کم پانچ مسلح افراد نے ریسٹورنٹس پر فائرنگ کی۔ اس کے آدھے گھنٹے بعد دوسرا کار بم دھماکہ ہوا۔
شدت پسند تنظیم الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
صومالہ کے وزیر اعظم نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کو وحشیانہ قرار دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مقامی وقت شام ساڑھے سات بجے ایک کار بم دھماکہ ہوا اور پھر مسلح افراد نے فائرنگ کی۔
بی بی سی صومالیہ کا کہنا ہے کہ بیچ ویو اور لیڈو سی فوڈ ریسٹورنٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایک پولیس اہلکار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ مسلح افراد ایک ریسٹورنٹ میں تھے۔ میجر فرح عبداللہ نے کہا ’ہمیں ریسٹورنٹ کے اندر ہلاک ہونے والوں کی تعداد نہیں معلوم۔‘
الشباب کے ترجمان شیخ ابوالمصاب نے روئٹرز کو بتایا ’ہم کیفے کے اندر ہیں اور یہ کیفے ہمارے کنٹرول میں ہے۔ کیفے کے اندر اور باہر بہت سی لاشیں پڑی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہothers
موغادیشو میں مستقبل ریڈیو کے ڈائریکٹر نے بی بی سی کو بتایا ’میں مغرب کی نماز پڑھ کر لیڈو ساحل پر گیا۔ مجھے اپنے دوستوں کے ہمراہ بیچ ویو ریسٹورنٹ پر آدھا گھنٹہ ہوا تھا کہ فایرنگ شروع ہو گئی۔
’میرے ارد گرد بہت سے لوگ بیٹھے تھے اور ریسٹورنٹ کے ہال میں ایک شادی ہو رہی تھی۔ میں دروازے کی جانب بھاگا لیکن اس وقت ایک زور دار دھماکہ ہوا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’میں نے لوگوں کو دوسری منزل سے چھلانگیں لگاتے ہوئے دیکھا۔ فائرنگ مسلمل جاری تھی اور پھر ایک اور دھماکہ ہوا۔‘
لیڈو بیچ لوگوں میں بالخصوص نوجوانوں میں بہت مشہور ہے۔







