موغادیشو کے ہوٹل میں دھماکوں سے 20 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
افریقی ملک صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے ایک ہوٹل میں دو دھماکوں کے نتیجے میں ارکانِ اسمبلی سمیت 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق شہر کے وسط میں واقع ہوٹل میں فائرنگ کے بعد دو دھماکوں کی آواز سنائی دی۔
بی بی سی کے نامہ نگار محمد معلم نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔
القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم الشباب نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
پولیس افسر نور محمد نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پہلا دھماکہ ہوٹل کے مرکزی دروازے پر ہوا اور اس کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے ہوٹل کے احاطے میں خود کو اڑا دیا۔
انھوں نے جائے وقوعہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکوں کے وقت ہوٹل میں وزیر اور ارکانِ اسمبلی موجود تھے اور انھوں نے کئی افراد کو زخمی حالت میں دیکھا ہے۔
دھماکہ جمعے کو دوپہر کے کھانے کے وقت ہوا اور ان اوقات میں ہوٹل میں کافی لوگ موجود ہوتے ہیں۔
الشباب کی عسکری کارروائیوں کے ترجمان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
الشباب اس وقت اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس گروپ کو ملک کے کئی علاقوں سے نکال دیا گیا ہے تاہم جنوب کے دیہی علاقوں میں اب بھی سرگرم ہیں۔
شدت پسند تنظیم اس سے پہلے بھی موغادیشو میں حکومتی ارکان کو نشانہ بنا چکی ہے۔







