موگادیشو: بم دھماکے میں متعدد ہلاک

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک علاقائی گورنر حسین علی وھیلی اس واقعے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک علاقائی گورنر حسین علی وھیلی اس واقعے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں

اطلاعات کے مطابق صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو میں بم پھٹنے اور فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتا یا ہے کہ حملے کے مقام پر انھوں نے دھواں اٹھتے اور زخمیوں کو دیکھا ہے۔

<link type="page"><caption> صومالیہ کے ہوٹل پر مسلح افراد کا حملہ، 15 افراد ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151101_somalia_hotel_attack_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

خبررساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک پولیس اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ پہلے فائرنگ کی گئی اور پھر ایک کار بم دھماکہ ہوا۔

فی الحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حملے میں کون ملوث ہے۔

احمد ابدی ویلی نامی پولیس اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’پہلے چلتی ہوئی گاڑی سے فائرنگ کی گئی اور جب موقع پر پولیس پہنچی تو کار بم دھماکہ ہوگیا۔‘

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ایک سرکاری افسر کی گاڑی پر فائرنگ جس کے نتیجے میں افسر کے محافظوں اور حملہ آوروں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

ایک عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ ایک کار میں سوار مسلح افراد نے سرکاری افسر پر حملہ کیا جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا اور پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔‘

اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں دکانوں اور متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک علاقائی گورنر حسین علی وھیلی اس واقعے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ عسکریت پسند گروہ الشباب نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران علاقے میں متعدد حملے کیے ہیں۔

گزشت ماہ موگادیشو کے ہوٹل پر ہونے والے حملے کی جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے، ذمہ داری بھی الشباب نے قبول کی تھی۔