صومالیہ کے ہوٹل پر مسلح افراد کا حملہ، 15 افراد ہلاک

ہوٹل میں داخل ہونے کے لیے دھماکہ خیز مادے سے بھری گاڑی کا استعمال کیا گيا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنہوٹل میں داخل ہونے کے لیے دھماکہ خیز مادے سے بھری گاڑی کا استعمال کیا گيا

افریقی ملک صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے ایک ہوٹل میں ہونے والے خود کش حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق حملہ آور دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی کا استعمال کرتے ہوئے ہوٹل صحافی کے احاطے میں داخل ہوئے۔

<link type="page"><caption> موغادیشو کے ہوٹل میں دھماکوں سے 20 افراد ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/02/150220_somalia_hotel_blast_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

افریقی یونین اور حکومتی افواج کا کہنا ہے کہ انھوں نے شدید لڑائی کے بعد ہوٹل کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔

یہ ہوٹل صومالیہ کے اراکین پارلیمان کی پسندیدہ جگہ تھی اور وہ اکثر و بیشتر وہاں جایا کرتےتھے۔

شدت پسند جنگجو تنظیم الشباب سے منسلک ایک ویب سائٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ القاعدہ سے منسلک گروپ کے لوگ دھماکے کے بعد ہوٹل میں داخل ہو گئے ہیں۔

ہوٹل صحافی میں صومالیہ کی حکومت کے اہلکار کی آمدورفت رہا کرتی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنہوٹل صحافی میں صومالیہ کی حکومت کے اہلکار کی آمدورفت رہا کرتی ہے

خیال رہے کہ یہ حملہ صومالیہ کے باکول علاقے میں جہادی جنگجوؤں اور افریقی یونین کے درمیان شدید جنگ کے ایک دن بعد ہوا ہے۔

افریقی یونین صومالیہ کی حکومت کی الشباب کے خلاف تعاون کر رہی ہے۔

ہرچند کہ صومالیہ میں سکیورٹی میں اضافہ ہوا ہے تاکہ الشباب دارالحکومت موغادیشو میں حملہ کرتے رہتے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں سال اپریل کے مہینے میں اس گروپ نے پڑوسی ملک کینیا کے گیریسا یونیورسٹی کالج پر حملہ کرکے تقریبا ڈیڑھ سو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔\

الشباب گروپ سے منسلک ایک ویب سائٹ نے حملے کی ذمے داری قبول کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنالشباب گروپ سے منسلک ایک ویب سائٹ نے حملے کی ذمے داری قبول کی ہے