صومالیہ: کار بم دھماکوں میں 8 افراد ہلاک

افریقی ملک صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں دو کار بم دھماکوں کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ دھماکے موغادیشو کے ہوائی اڈے کے قریب واقع جزیرہ ہوٹل میں ہوئے جو صومالی سیاستدانوں کا مقبول ٹھکانہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان دھماکوں کے بعد سکیورٹی حکام اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
صومالی اسلام پسند گروہ الشباب نے اس حملے کی زمہ داری قبول کی ہے۔
القاعدہ سے منسلک اس گروہ کے قبضے میں اب بھی ملک کے کئی جنوبی اور مرکزی حصے ہیں اور انہیں دارلحکومت سے باہر تو نکالا گیا مگر اب بھی دارالحکومت پر ان کے حملے ہوتے رہتے ہیں۔
ایک مقامی عبداللہ حسینی شہری نے روئٹرز کو بتایا کہ ’پہلے ہم نے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی اور پھر سکیورٹی والوں نے فائرنگ شروع کر دی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’چند منٹوں کے بعد ایک اور دھماکہ ہوا اور اس کے بعد مزید فائرنگ ہوئی۔‘

نائب وزیرِ داخلہ نے بی بی سی صومالی سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس دھماکے میں سکیورٹی کے چار اہلکار ہلاک ہوئے جن میں ایک اعلیٰ اہلکار بھی تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس اہلکار محمد ورسیم نے اے ایف پی کو بتایا کہ دوسرا دھماکہ تب ہوا جب سکیورٹی اہلکار پہلے دھماکے سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کر رہے تھے۔
جزیرہ ہوٹل پر دسمبر 2012 میں اس وقت حملہ کیا گیا جب اس میں صدر حسن شیخ محمود قیام پذیر تھے۔ اس حملے میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
گزشتہ ہفتے ایک ریستوران میں ریورٹ کنٹرول بم کے دھماکے سے گیار افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں چھ فوجی بھی شامل تھے۔







