صومالی فوج کا ہوٹل پر دوبارہ کنٹرول، 14 افراد ہلاک

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگجو گروپ الشباب کی جانب سے حملے کے بعد 12 گھنٹے تک فوج نے کارروائی کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگجو گروپ الشباب کی جانب سے حملے کے بعد 12 گھنٹے تک فوج نے کارروائی کی

صومالی فوج نے موغادیشو میں شدت پسندوں کے حملے کا نشانہ بننے والے مکہ المکرمہ ہوٹل کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج نے جنگجو گروپ الشباب کی جانب سے حملے کے بعد 12 گھنٹے تک کارروائی کی۔

مکہ المکرمہ نامی اس ہوٹل میں بم حملے، فائرنگ اور فوج کی کارروائی کے نتیجے میں 14 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق وہاں جنگجؤوں اور فوجیوں کی لاشیں پڑی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں سوئٹزرلینڈ کے لیے صومالیہ کے سفیر یوسف باری باری بھی شامل ہیں جبکہ دوسرے سفارتکاروں نے کھڑکیوں سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی ہے۔

الشباب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اسے ہوٹل کے بجائے حکومت کا اڈہ تسلیم کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنالشباب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اسے ہوٹل کے بجائے حکومت کا اڈہ تسلیم کرتے ہیں

اس سے قبل پولیس افسر میجر اسماعیل اولو نے خبررساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں مجموعی طور پر نو حملہ آور تھے جن میں سے چھ مارے جا چکے ہیں۔

یہ حملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک خود کش بمبار نے دھماکہ خیز مواد سے پر اپنی کار کو ہوٹل کی عمارت کے باہر دھماکے سے اڑا دیا۔

اگرچہ الشباب کے جنگجوؤں کو دارالحکومت موغادیشو سے کئی سال قبل نکال باہر کیا گیا ہے تاہم وہاں کے ہوٹل ان کے نشانہ پر رہتے ہیں کیونکہ وہ ابھی بھی ملک کے جنوبی علاقوں پر قابض ہیں۔

الشباب کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہوٹل مکہ المکرمہ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ حکومتی اہلکاروں میں بہت مقبول ہے۔

ترجمان نے بتایا: ’ہمارے لیے وہ ہوٹل نہیں ہے بلکہ حکومت کا ایک ٹھکانہ ہے۔‘

اس حملے میں 10 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس حملے میں 10 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں

اس سے قبل مارچ کے اوائل میں اس ہوٹل کے باہر ایک کار بم سے دھماکہ کیا گیا تھا اور القاعدہ سے منسلک گروپ الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اس ہوٹل میں بہت سے سیاسی رہنما اور بڑے تاجر ٹھہرتے ہیں کیونکہ یہ ہوٹل صدارتی محل اور ائیرپورٹ کو باہم ملانے والی شاہراہ پر واقع ہے۔

خیال رہے کہ صومالیہ گذشتہ دو دہائیوں سے تنازعات اور تصادم کی زد میں ہے تاہم اب بہت سے صومالی باشندے سکیورٹی میں بہتری کے بعد ملک کی از سر نو تعمیر میں تعاون کے لیے بیرونِ ملک سے واپس آ رہے ہیں۔

افریقی یونین کی فوج اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے ملک کو جنگجوؤں سے واپس حاصل کرنے میں تعاون کر رہی ہے۔