امریکی ڈرون حملے میں الشباب کے رہنما کی ہلاکت

افریقی یونئین 2011 سے شدت پسند گروہ الشباب کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنافریقی یونئین 2011 سے شدت پسند گروہ الشباب کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے

امریکی محکمہ دفاع نے صومالیہ میں کیے گئے ڈرون حملے میں شدت پسند تنظیم الشباب کے رہنما عدن گارر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

پینٹاگون کے مطابق گذشتہ جمعے صومالیہ میں ڈرون کے ذریعے فضا سے زمین پر مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل سے شدت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔

عدن گارر پر نیروبی کے ویسٹ گیٹ پر سنہ 2013 میں حملہ کرنے کا الزام تھا جس میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکہ کا خیال ہے کہ گارر امریکی شہریوں اور مغربی مفادات کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی نگرانی کرتے تھے۔

پینٹاگون نے کہا ہے کہ عدن گارر الشباب کی سکیورٹی اور اینٹیلیجنس سے متعلق دھڑے کے رکن تھے اور الشباب کی بیرونی کارروائیوں کے لیے ان کی حیثیت ایک اہم کارندے کی تھی۔

جمعے کو امریکی ڈرون حملے کا مرکز موغادیشو کے مغرب میں 240 کلومیٹر کے فاصلے پر دنسور نامی قصبہ تھا۔

نیروبی کے ویسٹ گیٹ پر الشباب کا حملہ 2011 میں ہوا جس میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشننیروبی کے ویسٹ گیٹ پر الشباب کا حملہ 2011 میں ہوا جس میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے

صومالیہ کے مختلف علاقوں میں 2011 کے بعد سے اس بنیاد پسند گروہ کو مار بھگانے کے لیے افریقی یونین کو امریکہ کی حمایت حاصل رہی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے اپنے بیان میں گارر کی ہلاکت کو دہشت گرد تنظیم الشباب پر ایک اور ’ضرب‘ قرار دیا ہے۔

پینٹاگون کی جانب سے گارر کی ہلاکت کی تصدیق سے کئی گھنٹے پہلے کینیا کے شمال مشرقی علاقے میں الشباب کے حملے میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے قبل اقریقی اتحاد میں شمولیت کرنے پر کینیا کو سزا دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

یاد رہے کہ شدت پسند تنظیم الشباب اس وقت اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔

اس گروپ کو ملک کے کئی علاقوں سے نکال دیا گیا ہے تاہم جنوب کے دیہی علاقوں میں اب بھی سرگرم ہیں۔