صومالیہ: الشباب کے نئے رہنما کا اعلان

اسلام پسند تنظیم الشباب صومالیہ میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناسلام پسند تنظیم الشباب صومالیہ میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے

صومالیہ کے اسلام پسند گروپ الشباب نے احمد عمر کو احمد عبادی گوندانے کی جگہ گروپ کا نیا سربراہ نامزد کیا ہے۔

موگادشو کے جنوب میں ایک امریکی فضائی حملے میں احمد عبادی گودانے کی موت ہو گئی تھی۔

الشباب نے آن لائن بیان میں اپنے نئے رہنما کے نام کا اعلان کرتے ہوئے سابق رہنما گوندانے کی موت کا بدلہ لینے کی بات بھی کہی ہے۔

الشباب کی جانب سے نئے لیڈر کے انتخاب کا فیصلہ گودانے کی موت کی تصدیق کے کچھ وقت بعد ہی کیا گیا۔

صومالیہ کے حکام نے الشباب کی جانب سے کسی ردعمل کی کارروائی کے پیش نظر پہلے ہی ملک میں الرٹ جاری کر دیا ہے۔

گوندانے امریکہ کے مطلوب ترین افراد کی فہرست میں تھے اور ان کے سر پر 70 لاکھ امریکی ڈالر کا انعام تھا۔

احمد عمر کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں۔ انھیں ابو عبیدہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

الشباب کے ایک کمانڈر ابو محمد نے کہا کہ نئے رہنما کا انتخاب اتفاق رائے سے ہوا ہے۔

امریکہ کی جانب سے گودانے کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد صومالیہ میں الرٹ جاری کر دیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکہ کی جانب سے گودانے کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد صومالیہ میں الرٹ جاری کر دیا گیا

شدت پسند گروپ کی جانب سے جاری ایک بیان میں ’برے نتیجے‘ کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔

بیان میں الشباب نے کہا ہے ’ہمارے سکالروں اور رہنماؤں کی موت کا بدلہ ہم پر فرض ہے جسے ہم کبھی بھی نہیں چھوڑ سکتے چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔ انشا اللہ تم لوگ اپنے عمل کا تلخ مزہ ضرور چکھوگے۔‘

ہفتہ کو صومالیہ کے وزیرِ دفاع كالف احمد اریگ نے نامہ نگاروں کو بتایا ’سکیورٹی ایجنسیوں کو اطلاع ملی ہے کہ اب الشباب ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔‘

انھوں نے گوندانے کی موت پر صومالی باشندوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ’سکیورٹی فورسز الشباب کے حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شدت پسند عمل کے خلاف سکیورٹی فورسز کی مدد کریں۔‘

اس سے قبل صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے جمعہ کو ایک بیان میں شدت پسندوں سے اپنے لیڈر کی موت کے بعد امن کی راہ اپنانے کی اپیل کی تھی۔