کینیا: فضائی حملے میں 30 شدت پسند ہلاک

کینیا کا کہنا ہے کہ اس نے ایک فضائی حملے میں شدت پسند تنظیم الشباب کے کمانڈروں سمیت 30 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
یہ حملہ کینیا اور ایتھیوپیا کی سرحد کی قریب کیا گیا ہے۔
<link type="page"><caption> صومالیہ کی تنظیم ’الشباب‘ کیا ہے؟</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130922_alshabab_history_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> نیروبی: ’حملہ آوروں میں امریکی، برطانوی شامل تھے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130924_kenya_seige_ends_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق اس حملے میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حملے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
کینیا کے ہزاروں فوجی صومالیہ میں موجود ہیں۔ وہ الشباب کے خلاف لڑائی میں اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔
صومالیہ میں سرگرم شدت پسند تنظیم الشباب القاعدہ سے منسلک ہے اور وہ وہاں سخت گیر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔
عسکریت پسندوں نے کہا تھا کہ انھوں نے گذشتہ برس کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ایک شاپنگ سنٹر میں کینیائی فوج کی صومالیہ میں موجودگی کی وجہ سے حملہ کیا تھا۔ اس میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کینیا کی دفاعی فوج نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ فضائی حملے میں شدت پسندوں کی کم سے کم پانچ گاڑیاں اور دوسرے اہم اثاثے تباہ ہو گئے ہیں۔
ہلاک ہونے والے کمانڈروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
فوج کے ترجمان کے مطابق الشباب کے رہنما مختار علی زبیر المعروف احمد گوڈین فضائی حملے سے 30 منٹ قبل وہاں سے نکل گئے تھے۔
الشباب نے تاحال اس حملے کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیاہے۔







