امریکہ کی افریقہ میں الشباب اور القاعدہ کے خلاف کارروائی

امریکہ کے خصوصی فوجی دستے نے 2009 میں براوی میں الشباب کے رہنما صالح علی صالح نبھان کو ہلاک کیا تھا
،تصویر کا کیپشنامریکہ کے خصوصی فوجی دستے نے 2009 میں براوی میں الشباب کے رہنما صالح علی صالح نبھان کو ہلاک کیا تھا

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے خصوصی فوجی دستوں نے افریقی ممالک صومالیہ اور لیبیا میں شدت پسند جنگجوؤں کے خلاف دو الگ الگ چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر کو ہونے والی ایک کارروائی میں القاعدہ کے رہنما انس اللبّی کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے پکڑا گیا ہے جبکہ دوسری کارروائی میں صومالیہ میں الشباب کے سینیئر رہنما کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن خیال ہے کہ یہ کارروائی ناکام ہوگئی۔

<link type="page"><caption> صومالیہ: پاکستانی نژاد برطانوی اور امریکی جہادی ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130913_somailia_jehadis_killed_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> نیروبی شاپنگ مال میں مزید لاشوں کی تلاش</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130926_kenya_nairobi_bodies_nj.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> صومالیہ میں یو این کے دفتر پر حملہ، 15 ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/06/130619_somalia_un_office_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

الشباب کے اس رہنما کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، لیکن شبہ ہے کہ وہ گذشتہ ماہ کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ویسٹ گیٹ شاپنگ سنٹر پر حملے میں ملوث تھے جس میں کم از کم 67 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

طرابلس میں انس اللبی کے رشتے داروں اور امریکی حکام نے بتایا ہے کہ انھیں سنیچر کی صبح گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کے بھائی نبیح نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’وہ اپنے گھر کے باہر گاڑی کھڑی کر رہے تھے کہ تین گاڑیوں نے انھیں گھیرے میں لے لیا، ان کی کار کے شیشے توڑ دیے گئے اور ان کا پستول لے کر انھیں حراست میں لے لیا گیا۔‘

اس سے قبل ایک امریکی عہدے دار نے سی این این کو بتایا تھا کہ یہ کارروائی لیبیا کی حکومت کے علم میں تھی۔ پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل نے کہا: ’لبی اس وقت قانونی طریقے سے امریکی فوج کی حراست میں ہے اور اسے لیبیا سے باہر ایک محفوظ جگہ پر رکھا گیا ہے۔‘

49 سالہ اللیبی پر 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملے کرنے کا الزام ہے۔ ایک امریکی عدالت نے ان پر فردِ جرم عائد کر رکھی ہے۔

لبی کا اصل نام نزیہ عبدالحمید الرقیعی ہے، اور ان کا نام امریکی ایف بی آئی کی سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست پر ایک عشرے سے موجود ہے۔ ان کے سر پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام مقرر تھا۔

اسی دوران امریکی محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج کے خصوصی دستوں نے صومالیہ کے ساحلی قصبے براوی میں کارروائی کی ہے۔ جارج لٹل نے بتایا کہ امریکی دستوں نے ’الشباب کے ایک مشہور دہشت گرد کے خلاف کارروائی کی ہے۔‘ انھوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

امریکی میڈیا میں آنے والی ابتدائی رپورٹوں میں نام ظاہر کیے بغیر امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ امریکی سیلز نے علی الصباح چھاپہ مار کر اس شخص کو امریکی نیوی سیلز نے یا تو پکڑ لیا ہے یا ہلاک کر دیا ہے۔

تاہم حکام نے بعد میں کہا کہ سیلز کو اپنا ہدف نہیں ملا۔ اس ہدف کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

اخبار نیویارک ٹائمز اور ٹی وی چینل این بی سی نے ابتدا میں خبر دی تھی کہ الشباب کے رہنما کو گرفتار کیا گیا ہے، لیکن بعد میں نیویارک ٹائمز نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ رات کو ہونے والی اس کارروائی کے دوران یہ رہنما مارے گئے، تاہم اس کی تصدیق کرنے سے پہلے ہی امریکی فوجیوں کو وہاں سے نکلنا پڑا۔

49 سالہ اللیبی پر 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملے کرنے کا الزام ہے
،تصویر کا کیپشن49 سالہ اللیبی پر 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملے کرنے کا الزام ہے

ادھر امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے ایسے ذرائع کے حوالے سے بتایا جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، کہ امریکی فوجی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔

ایک امریکی سکیورٹی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ’براوی پر چھاپے کی منصوبہ بندی ایک ہفتے پہلے کی گئی تھی۔‘

سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیروبی میں الشباب کی جانب سے کیے گئے حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ کارروائی ویسٹ گیٹ پر کیے گئے حملے کے جواب میں کی گئی۔‘

اس سے پہلے الشباب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سفید فام فوجی‘ کشتی کے ذریعے براوی پہنچے تھے لیکن الشباب نے ان کا حملہ پسپا کر دیا۔

مقامی گروپ کمانڈر محمد ابو سلیمان نے کہا کہ یہ کارروائی ناکام ہوگئی ہے اور براوی پر اب بھی ان کا کنٹرول ہے۔

براوی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ رات کو شدید فائرنگ کی آوازوں کی وجہ سے نیند سے اٹھ گئے۔ ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’دس پندرہ منٹ تک شدید فائرنگ ہوتی رہی۔‘

واضح رہے کہ شدت پسند تنظیم الشباب نے نیروبی میں ویسٹ گیٹ شاپنگ مال پر 21 ستمبر کو ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس واقعے میں67 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل امریکہ کے خصوصی فوجی دستے نے 2009 میں براوی میں دن کو کارروائی کر کے الشباب کے رہنما صالح علی صالح نبھان کو ہلاک کیا تھا۔

واشنگٹن نے صومالیہ کی حکومت اور افریقی یونین کی فوج کی مدد کرنے کے لیے الشباب کے خلاف ڈرونز کا استعمال بھی کیا ہے۔