صومالیہ: پاکستانی نژاد برطانوی اور امریکی جہادی ہلاک

صومالیہ میں عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام پسند تنظیم الشباب سے اختلافات کے بعد ایک پاکستانی نژاد برطانوی اور ایک امریکی جہادی کو ہلاک کیا گیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ عمر حمامی جو الامریکی کے نام سے جانا جاتا تھا اور اوسامہ الابرطانوی کو جو ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھا، صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے قریب ایک گاؤں میں الشباب کی طرف سے جمعرات کی صبح ایک حملے میں ہلاک ہوگئے۔
یہ دونوں جہادی الشباب سے اس سال جدا ہونے کے بعد ان سے چھپ رہے تھے۔
اس سے پہلے بھی الامریکی کی ہلاکت کی خبریں آ چکی ہیں۔
امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے مارچ میں الامریکی کو پکڑنے میں مدد دینے کے لیے معلومات فراہم کرنے پر پانچ ملین امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا۔
الامریکی کے ایک جنگجو ساتھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈینسر قصبے کے قریب الشباب نے ان پر حملہ کر کے انھیں قابو میں کر لیا۔
انھوں نے کہا کہ الشباب کے ارکان مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے ان دو جہادیوں کی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس حملے کا نشانہ بننے والے ایک اور مصری جہادی نے الشباب کے سامنے اسلحہ ڈال دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی افراد نے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔ باردھیئر گاؤں کے رہائشی معلیم علی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’الامریکی گروپ اور دوسرے جنگجوؤں کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی تھی۔‘
الامریکی اور اوسامہ الابرطانوی صومالیہ کی معروف اسلام پسند شخصیت شیخ حسن اویس کے اتحادی تھے جو جون میں الشباب سے علیحیدہ ہوئے تھے۔
وہ آج کل حکومت کی تحویل میں ہیں۔ اقوامِ متحدہ صومالیہ کی موجودہ حکومت کی حمایت کرتی ہے۔
بی بی سی کے صومالیہ کے تجزیہ کار محمد محمد کا کہنا ہے کہ الشباب اور اویس میں اختلافات کے بعد الشباب اویس کے ساتھیوں کو ڈھونڈ کر ہلاک کرتا رہا ہے۔
الامریکی جہادی ترانے تیار کرنے اور انہیں یو ٹیوپ پر ڈالنے کرنے کے لیے مشہور تھے۔
انھوں نے ابتدائی زندگی امریکی ریاست ایلاباما کے قصبے ڈافین میں گزاری جہاں ان کے دوستوں کے مطابق وہ اپنے سکول میں مقبول تھا، وہ ہوشیار اور پرکشش شخصیت کا مالک تھا اور سکول کے صدر کے طور پر چنا گیا تھا۔
الامریکی کی گرل فرینڈ کے مطابق ان کے والد شام سے تعلق رکھنے والے سنی مسلمان اور ان کی والدہ عیسائی ہیں۔
وہ 2006 میں صومالیہ چلے گئے اور الشباب تنظیم میں شامل ہو گئے۔
دوسری طرف پاکستانی نژاد البرطانوی کے بارے میں بہت کم معلومات سامنے آئیں ہیں۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس برطانوی شہری کی صومالیہ میں موجودگی سے با خبر رہے تھے لیکن انھوں نے البرطانوی کی ہلاکت کی نہ تصدیق کی اور نہ ان کا اصلی نام بتایا۔







