’امدادی ایجنسیوں نے الشباب کو پیسے دیے‘

دو تھینک ٹینکس کی رپورٹ کے مطابق صومالیہ میں 2011 میں آئے قحط میں امدادی ایجنسیوں نے شدت پسند تنظیم الشباب کو تنظیم کے زیرِ اثر علاقوں تک رسائی کے لیے پیسے ادا کیے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی موقوں پر الشباب نے خود امدادی سامان باٹنے کی شرط رکھی اور اس میں سے زیادہ تر اپنے لیے ہی رکھ لیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ امدادی ایجنسیاں ابھی تک اشباب کے زیرِ نگرانی علاقوں میں کام کرنے کے لیے تنظیم کو پیسے دے رہیں ہیں۔
2011 میں صومالیہ میں پڑنے والے قحط میں 250000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اورسیز ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ اور ہیریٹیج انسٹیٹیوٹ فار پالیسی سٹڈیز نامی تھینک ٹینکوں کی اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ الشباب نے کیسے امدادی ایجنسیوں سے رقم وصول کی جسے ’ریجسٹریشن فیس‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اس میں ایک مثال قصبے بائے دوئا کی دی گئی ہے جہاں اطلاعات کے مطابق تنظیم نے کھانے کے سامان میں سے آدھے سے زیادہ اپنے جنگجوؤں کے لیے رکھ لیا تھا۔
الشباب نے امدادی ایجنسیوں سے سامان ہتھیانے اور اس کی نگرانی کا ایک انتہائی منظم نظام بنا لیا تھا اور ایک ’ہیومینیٹیریئن کورڈینیشن آفس‘ بھی بنایا تھا۔
امدادی ایجنسیوں کو اس دفتر سے رابطہ کرنا پڑتا تھا اگرچہ ایسا کرنے میں انھوں قانونی پیچیدگی کا سامنا ہو سکتا تھا۔ متعدد ممالک میں انسدادِ دہشتگردی کے قوانین الشباب جیسی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے سے منع کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ کا کہنا ہے کہ جن ایجنسیوں نے الشباب کے ساتھ کام کیا انہیں ایک فارم بھرنا پڑتا تھا کہ جس میں ان سے اس بات کی یقین دہانی لی جاتی تھی کہ وہ مخصوص معاشرتی اور مذہبی سرگرمیاں نہیں کریں گے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ الشباب امدادی ایجنسیوں کی جاسوسی کرنے والے افراد کو زیادہ کھانا دیتی تھے۔
الشباب نے کچھ امدادی ایجنسیوں پر پابندی لگا رکھی تھی جبکہ کچھ تنظیموں نے ان مطالبان کے پیشِ نظر ان کے علاقوں میں کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔







