کینیا: مبینہ حملہ آوروں کے نام افشا

کینیا میں حکام نے ان چار مشتبہ افراد کے نام افشا کر دیے گئے ہیں جن کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ وہ نیروبی میں گذشتہ ماہ ویسٹ گیٹ نامی شاپنگ مال پر ایک بڑے حملے میں ملوث تھے۔
کینیا کی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کی سامنے آنے والے نئے فوٹیج میں دکھائی دینے والے ابو برا السوڈانی، عمر نبھان، خطاب الکینی اور عمیر نامی مشتبہ حملہ آوروں کو کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔
کینیا نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اس حملے میں دس سے پندرہ حملہ آور ملوث تھے لیکن اب پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان حملہ آوروں کی تعداد چار سے چھ ہو سکتی ہے۔
<link type="page"><caption> نیروبی شاپنگ مال میں مزید لاشوں کی تلاش</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130926_kenya_nairobi_bodies_nj.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> خودکش حملہ آور کی بیوہ کے وارنٹ جاری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130926_kenya_british_widow_warrents_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> کینیا: تین روزہ قومی سوگ کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130924_kenya_seige_ends_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
یاد رہے کہ ویسٹ گیٹ شاپنگ مال پر 21 ستمبر کو ہونے والے حملے میں 67 افراد ہلاک ہوئے اور شدت پسند تنظیم الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
القائدہ سے منسلق الشباب کا کہنا تھا کہ یہ حملہ صومالیہ میں کینیا کی فوجی مداخلت کے ردِ عمل میں کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب ان چار حملہ آوروں کا اسلحہ لیے شاپنگ مال میں خاموشی سے ایک کمرے سے گزرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج نشر کی گئی تو ان کے نام بھی افشا کیے گئے۔
کینیا کے فوج کے ترجمان میجر امینئل چیرچیر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’میں اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ دہشت گرد تھے جو کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔‘
انھوں نے کہا کہ سوڈان سے تعلق رکھنے والے السوڈانی ایک ’تجربہ کار جنگجو تھے‘ جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس گروپ کے سرغنہ تھے۔
میجر امینئل نے کہا کہ نبھان عرب نژاد کینیائی تھا الکینی کا تعلق صومالیہ سے تھا جن کے الشباب کے ساتھ رابطے تھے۔ انھوں نے کہا کہ عمیر کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں ہیں۔
کینیا کے پولیس کےسربراہ نے کینیا کی کے ٹی ن ٹی وی کو بتایا کہ اب یقین کیا جاتا کہ اس حملے میں دس سے پندرہ نہیں بلکہ چار سے چھ حملہ آور شریک تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’حملے کے بعد ان میں کوئی بھی عمارت سے بچ نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔‘
انھو نے مزید کہا کہ حکام کو مطلوب خاتون سمانتھا لیوتھویٹ اس حملے میں ملوث نہیں تھیں۔
’ہم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملہ آوروں میں کوئی خاتون شامل نہیں تھی۔‘
سمانتھا سات جولائی 2005 کو لندن میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں ہلاک ہونے والے خود کش حملہ آور جرمین لنڈسی کی بیوہ ہیں۔ اس حملے میں 52 افراد ہلاک اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔
نیروبی میں بی بی سی کے نامہ نگار جبرائیل گیٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ نئی سی سی ٹی فوٹیج عمارت کے ایک محدود حصے سے آئی ہے جبکہ بعض عینی شاہدین دو طرف سے حملہ ہونے کا ذکر کرتے ہیں اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کتنے مسلح افراد نے اس حملے میں حصہ لیا۔







