ویسٹ گیٹ میں مارے جانے والے کون تھے

کینیا ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس محاصرے کے نتیجے میں تریسٹھ افراد اب بھی لاپتہ ہیں
،تصویر کا کیپشنکینیا ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس محاصرے کے نتیجے میں تریسٹھ افراد اب بھی لاپتہ ہیں

کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ویسٹ گیٹ شاپنگ سینٹر کو صومالی شدت پسند تنظیم الشباب سے تعلق رکھنے والے والے دہشت گردوں سے خالی کروا لیا ہے اور اس محاصرے میں باسٹھ افراد ہلاک اور 170 زخمی ہوئے۔

ویسٹ گیٹ شاپنگ سینٹر پر شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد میں چند کا تعارف۔

روحیلیہ ادیتہ سوڈ، کینیا

روحیلیہ ادیتہ ریڈیو افریقہ گروپ کے ریڈیو سٹیشن ایسٹ ایف ایم کی میزبان تھیں
،تصویر کا کیپشنروحیلیہ ادیتہ ریڈیو افریقہ گروپ کے ریڈیو سٹیشن ایسٹ ایف ایم کی میزبان تھیں

روحیلیہ ادیتہ سوڈ کینیا میں ریڈیو اور ٹی وی کی ایک مشہور شخیصت تھیں۔ شدت پسندوں کے حملے کے وقت وہ سنٹر کی چھت پر واقع گاڑیوں کی پارکنگ میں اپنے ٹیم کے ہمراہ بچوں کے لیے کھانا پکانے کے ایک مقابلے کے پروگرام کی میزبانی کر رہی تھیں۔

ان کی جنوری سال دو ہزار بارہ میں امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ کے اہلکار کیتن سوڈ سے شادی ہوئی تھی اور ہلاکت کے وقت وہ چھ ماہ سے حاملہ تھیں اور حملے میں زخمی ہونے کے بعد ان کو نیروبی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی موت واقع ہو گئی۔

روحیلیہ ادیتہ ریڈیو افریقہ گروپ کے ریڈیو سٹیشن ایسٹ ایف ایم کی میزبان تھیں اور اس کے علاوہ کِس ٹی وی، ای نیوز کِس 100 اور ایکس ایف ایم پر بھی پروگرامز کی میزبانی کرتی تھیں۔

روحیلیہ ادیتہ کے ساتھ ریڈیو میں کام کرنے والی کمل کور بھی حملے کے وقت اپنے دو بچوں کے ساتھ ادیتہ کے ساتھ تھیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک مسلح حملہ آور نے ان پر حملہ کیا۔’ایک دستی بم ان پر پھینکا گیا، اس کے ساتھ اس نے ہمارے اوپر فائرنگ بھی کی، ایک گولی میرے بچے سے ایک انچ سے بھی کم فاصلے سے گزرتی ہوئی دیوار سے ٹکرائی اور اس کے بعد میرے قریب کھڑے ایک نوجوان لڑکے کو جا لگی‘۔

کمل کور اس حملے میں بچ گئی تھیں لیکن ان کے بچوں کی ٹانگوں پر دستی بم کے ٹکڑے لگے تھے۔

گیو ایمونجی اور ان کی منگتر، کینیا

باگیو ایمونجی کی بہن اس حملے میں محفوظ رہیں
،تصویر کا کیپشنباگیو ایمونجی کی بہن اس حملے میں محفوظ رہیں

کینیا کے صدر اوہارو کینیاتا کا بھتیجا باگیو ایمونجی اور ان کی منگیتر بھی اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

آئرلینڈ کے اخبار آئرش انڈیپنڈنٹ کے مطابق باگیو ایمونجی کی والدہ چھ سال ائرلینڈ میں کینیا کی سفیر رہنے کے بعد حال ہی وطن واپس آئی تھیں۔

باگیو ایمونجی کی بہن بھی اس وقت ویسٹ گیٹ شاپنگ سنٹر میں موجود تھیں لیکن وہ وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہیں۔

نیہا مشرا، کینیا

نیہا اپنے دوستوں میں کافی مقبول تھیں
،تصویر کا کیپشننیہا اپنے دوستوں میں کافی مقبول تھیں

نیہا مشرا ویسٹ گیٹ شاپنگ سنٹر کے قریب واقع ایک اکیڈمی میں زیرتعلیم تھیں اور سنیچر کو شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہو گئیں تھیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ان کی ایک دوست کے مطابق نیہا ایک بہترین دوست، کلاس کی ہیڈ گرل اور اچھی رقاص تھیں۔ اور وہ کسی بھی موضوع پر بات کرنے والی لڑکی تھی۔

جیناحہ باؤا اور زہرہ باؤا، برطانیہ

زہرہ باؤا دبئی میں ایک مارکنگ کمپنی میں چیف ایگزیکٹو تھیں
،تصویر کا کیپشنزہرہ باؤا دبئی میں ایک مارکنگ کمپنی میں چیف ایگزیکٹو تھیں

آٹھ سالہ سالہ جیناحہ باؤا اپنے کینیائی نژاد والدہ زہرہ باؤا کے ساتھ حملے کے وقت شاپنگ سنٹر میں موجود تھیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ زہرہ باؤا کو ہلاک ہونے والے برطانوی شہریوں میں شامل کیا گیا ہے کہ نہیں۔

مسز باؤ مسلمان تھیں اورگزشتہ سال تک لیمنٹن سپاہ میں رہائش پذیر تھی اور اس کے بعد کینیا میں اپنی والدہ کا خیال رکھنے کے لیے منتقل ہو گئی۔ اس کے بعد انہوں نے دبئی میں ایک مارکٹنگ کمپنی میں چیف ایگزیکٹو کے طور پر ملازمت شروع کی اور اختتام ہفتہ پر اپنے خاندان سے ملنے نیروبی جاتی تھیں۔ سنیچر کو حملے کے وقت وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کچن کا سامان خریدنے ویسٹ گیٹ سنٹر گئی تھیں۔

بھارت کے شہری

ہلاک ہونے والے افراد میں متعدد ممالک کے شہری شامل ہیں
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والے افراد میں متعدد ممالک کے شہری شامل ہیں

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ شاپنگ سنٹر میں ہلاک ہونے والوں میں بینک آف بارودا کے برانچ مینجر کے آٹھ سالہ بیٹے پرامشو جین بھی شامل ہیں۔

سدھارشن بی ناگراج، بھارت

ترجمان سید اکبرالدین کے مطابق بھارت کے جنوبی شہر بنگلور کے سدھارشن بی ناگراج نیروبی ایک دن پہلے ہی جمعہ کو پہنچے تھے اور ویسٹ سنٹر پر ہونے والے حملے میں مارے گئے۔ وہ کتابوں کی تجارت کرتے تھے اور انہیں کینیا کے علاوہ ہمسایہ ممالک گھانا اور یوگینڈا بھی جانا تھا۔

سردھار نٹراجن

چالیس سالہ بھارتی شہری سردھار بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے رہائشی تھے اور نیروبی میں ادویات تیار کرنے والی ایک کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق کینیا میں اس وقت بھارتی نژاد اور بھاری شہریت رکھنے والے ستر ہزار افراد رہائش پذیر ہیں۔

دیگر ممالک کے شہری

ہلاک ہونے والے دیگر غیر ملکی شہریوں کا تعلق چین، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، کینیڈا، آسٹریلیا، ہالینڈ اور گھانا سے ہے۔