’برطانوی مسلمانوں کو الشباب سے خطرہ ہے‘

شدت پسندی کے خلاف آواز اٹھانے والے برطانوی مسلمانوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ انہیں صومالی شدت پسند گروہ الشباب نشانہ بنا سکتا ہے۔
برطانوی مسلمان تجزیہ کار محمد انصار پہلے ہی پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔ انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کو حقیقی طور پر خطرہ لاحق ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت کیا جا رہا ہے کہ جب الشباب کے شدت پسندوں نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ان کی تنقید کرنے والے کچھ مسلمانوں کے نام لیے گئے ہیں۔
برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس ویڈیو کی تفتیش کر رہے ہیں۔
ایک گھنٹے کی ’دی وول وچ اٹیک: آئی فار این آئی‘ نامی اس ویڈیو میں برطانوی لہجے کے ایک نامعلوم شخص کی آواز سنائی دے سکتی ہے۔
اس ویڈیو میں جنوب مشرقی لندن کے علاقے وول وچ میں بائیس مئی کو کیے گئے برطانوی فوجی لی رِگبی کے قتل کو ایک کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیو میں محمد انصار اور دیگر مسلمانوں کو اس قتل کی مذمت کرتے بھی دیکھایا گیا ہے۔
محمد انصار کا کہنا ہے کہ اس ہفتے کے آغاز پر پولیس ان کے پاس آئی اور انہیں حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ویڈیو میں ذکر کیے گئے امام مسجد اور صداکار اجمل مسرور کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بھی رات گئے دو پولیس اہلکاروں آئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ان سے کہا ہے کہ ان کے خلاف بھی خطرے کے شواہد موجود ہیں۔
تاہم اجمل مسرور نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں خاموش نہیں کیا جاسکتا اور وہ شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔
برطانوی پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے چند افراد کو خبردار کیا ہے اور وہ ابھی اس ویڈیو کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اکیس ستمبر کو کینیا میں ویسٹ گیٹ شاپنگ مال پر حملے میں کم از کم 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے، اور القاعدہ سے منسلک تنظیم الشباب نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملہ انھوں نے کیا تھا۔
الشباب صومالیہ میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ تنظیم امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے کالعدم قرار دی جا چکی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ تنظیم کے سات سے نو ہزار مسلح جنگجو ہیں اور یہ صومالیہ کے بہت سے علاقوں پر قابض ہیں۔







