فضائی حملے میں ’الشباب کے انٹیلی جنس سربراہ ہلاک‘

کینیا کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک فضائی حملے میں صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب کے انٹیلی جنس سربراہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق محمد کاراتے اور الشباب کے دس دیگر کمانڈر آٹھ فروری کو جنوبی صومالیہ میں ہونے والے حملے میں مارے گئے۔
کینیا کی فوج کے مطابق کینیا کے فوجی اڈے پر گذشتہ ماہ کیے جانے والے حملے میں محمد کاراتے نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
الشباب نے کاراتے کی ہلاکت کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔
القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم الشباب کے خلاف افریقی یونین کے 22 ہزار فوجی اقوام متحدہ کی حمایت کے ساتھ محوِ جنگ ہیں جن میں سے چار ہزار اہلکار کینیا کے ہیں۔
الشباب کا کہنا ہے کہ کینیا کے فوجی اڈے پر 15 جنوری کو کیے گئے ان کے حملے میں کم سے کم 100 فوجی مارے گئے تھے۔
کینیا کے فوجی پہلی مرتبہ سنہ 2011 میں صومالیہ میں داخل ہوئے تھے جس کا مقصد شدت پسندوں کو سرحد پار حملوں اور لوگوں کے اغوا سے روکنا تھا۔
کینیا کی فوج کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت کاراتے ایک تربیتی کیمپ میں نئے جنگجوؤں کی تربیت مکمل ہونے کی تقریب میں موجود تھے جن میں خود کش بمبار، قاتل اور بارودی مواد کے ماہر شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوج کے مطابق حملے میں الشاب کے کم سے کم 40 جنگجو مارے گئے۔
الشباب صومالیہ میں کٹر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔ اسے سنہ 2011 میں دارالحکومت موغادیشو سے نکال باہر کر دیا گیا تھا تاہم اب بھی اسے صومالیہ کے جنوبی علاقوں میں کنٹرول حاصل ہے، جہاں سے وہ ملک بھر میں حملے کرتے ہیں۔







