الشباب نے صومالیہ میں فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا

،تصویر کا ذریعہAFP
صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب نے جنوبی قصبے الادی کے باہر افریقی یونین کے فوجی مرکز پر قبضہ کر لیا ہے۔
شدت پسند تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے افریقی یونین کے فوجی کیمپ پر ’مکمل کنٹرول‘ حاصل کر کے 60 سے زائد کینیائی فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
مقامی شہریوں نے بی بی سی کو بتایا کہ الشباب نے فوجی کیمپ پر اپنا جھنڈا لہرا دیا ہے اور قصبے میں ہلاک کیے جانے والے فوجیوں کی لاشوں کو گھمایا ہے۔
تاہم کینیا کی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے ایک قریبی صومالی اڈے پر حملہ کیا تھا جس کے جواب میں کینیا کے فوجیوں نے کارروائی کی۔
ایک بیان میں کینیا کی فوج کے ترجمان کرنل ڈیوڈ اوبونیو نے کہا کہ دونوں جانب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اس وقت معلوم نہیں ہو سکی۔
صومالیہ میں اقوام متحدہ کی حمایتی حکومت کی الشباب کے خلاف لڑائی میں مدد کرنے کے لیے 22 ہزار افریقی یونین فورسز میں چار ہزار فوجیوں کا تعلق کینیا سے ہے۔
الادی کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ انھوں نے مقامی وقت کے مطابق ساڑھے پانچ منٹ پر دھماکے کی آواز سنی جس کے بعد شدید فائرنگ ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہAP
’ہم نے اس کے بعد الشباب کے جنگجوؤں کو دیکھا جب کہ کینیا کے فوجی کیمپ چھوڑ کر جا رہے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس وقت کیمپ الشباب کے قبضے میں ہے اور ہم فوجی گاڑیوں کو جلتا ہوا اور ہر طرف فوجیوں کی بکھری لاشوں کو دیکھ رہے ہیں۔ اس واقعے میں کوئی عام شہری زخمی یا ہلاک نہیں ہوا ہے لیکن زیادہ تر لوگ قصبہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔‘
الشباب کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے صبح کی نماز کے بعد حملہ کیا اور عمارت میں داخل ہونے سے قبل کار بم کا دھماکہ کیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے ایک گھنٹے تک شدید لڑائی کے بعد بیس کیمپ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘
’ہم نے بیس کیمپ میں کینیا کے فوجیوں کی 63 لاشیں گنی ہیں، جبکہ باقی فوجی یہاں سے فرار ہو گئے ہیں جن کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔‘
ان کے مطابق جنگجوؤں نے کیمپ کے اندر موجود 31 میں سے 28 فوجی گاڑیاں اور اسلحہ قبضے میں لے لیا ہے۔







