الشباب کی پراپیگنڈا ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty
صومالیہ کے شدت پسند گروہ الشباب نے ایک پراپیگنڈا ویڈیو ریلیز کی ہے جس میں امریکی صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی فوٹیج شامل کی گئی جس میں انھوں نے مسلمانوں کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ الشباب کے القاعدہ کے ساتھ بھی روابط ہیں۔
<link type="page"><caption> ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم مخالف بیان پر شدید ردِ عمل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151207_donald_trump_muslims_sh" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’الشباب اب کینیا میں جنگجو بھرتی کر رہی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/04/150416_alshabab_kenya_recruitment_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
اس ویڈیو میں افریقی نسل کے امریکیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے وہ اسلام قبول کرلیں اور ’مقدس جنگ‘ کا حصہ بنیں۔ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں نسل پرستی، پولیس کے مظالم اور مسلمان مخالف جذبات غالب ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ڈونلنڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ویڈیو کے بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
خیال رہے کہ حالیہ چند سالوں میں کئی صومالی نژاد امریکی الشباب میں شمولیت کے لیے صومالیہ گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
51 منٹ کے دوانیے پر مشتمل اس ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ کو دس منٹ کے لیے دکھایا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا دسمبر میں کہنا تھا کہ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر ’مکمل‘ پابندی عائد کر دینی چاہیے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سرحدوں کو اس وقت تک مکمل طور پر بند کر دینا چاہیے جب تک ’ہمارے ملک کے نمائندگان اس بات کا تعین نہیں کر لیتے کہ کیا ہو رہا ہے۔‘
ان کے اس بیان کی امریکہ میں شدید مذمت کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حال ہی میں امریکہ کی سابق سیکریٹری خارجہ اور صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں ’بھرتیاں کروانے والے‘ بنتے جا رہے ہیں۔
الشباب کی ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شدت پسند رہنما انور العولاقی کے دو کلپس کے درمیان دکھایا گیا ہے۔ انور العولاقی سنہ 2011 میں یمن میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
انٹیلی جنس ادارے سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس ویڈیو کو شدت پسند تنظیم الخطیب میڈیا فاؤنڈیشن کی جانب سے جمعے کو ٹوئٹر پر جاری کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ الشباب صومالیہ میں مغرب نواز حکومت کا تختہ الٹ کر شرعیت کا نفاذ کرنا چاہتی ہے۔
الشباب کینیا اور ایتھوپیا میں بھی حملے کر چکی ہے۔







