’مسلمانوں نے عیسائیوں کو بچا لیا‘

،تصویر کا ذریعہAP
کینیا میں ایک بس پر سفر کے دوران عینی شاہدین کے مطابق شدت پسندوں کے حملے کے دوران مسلمان افراد نے مذہبی بنیاد پر گروہوں میں تقسیم ہونے سے انکار کر کے عیسائی افراد کو بچا لیا۔
کینیا کے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی گورنر کا کہنا تھا کہ انھوں نے شدت پسندوں سے کہا کہ ’ان سب کو ایک ساتھ ماردیں یا پھر سب کو چھوڑ دیں۔‘
صومالی سرحد پر شمال مشرقی گاؤں ال واک کے نزدیک حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
صومالیہ میں سرگرم شدت پسند الشباب گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
یہ گروہ کینیا کے شمال مشرقی علاقوں میں اکثر حملے کرتا رہتا ہے۔
بس کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے مندیرا شہر جا رہی تھی۔
رواں سال اپریل میں گریسا یونی ورسٹی پر حملے میں الشباب نے 148 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق حملے کے دوران شدت پسندوں نے عیسائی افراد کو الگ کر کے ہلاک کیا تھا جبکہ مسلمانوں کو چھوڑ دیا گیا تھا۔
گذشتہ سال الشباب نے مندیرا کے نزدیک بس پر حملہ کرکے 28 غیرمسلم افراد کو کرسمس کی چھٹیوں میں نیروبی جاتے ہوئے ہلاک کردیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مندیرا کے گورنر علی روبا نے نجی اخبار ڈیلی نیشن سے کہا کہ ’مقامی افراد نے حب الوطنی اور باہمی اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ مسافروں کی جانب سے یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے بعد شدت پسندوں نے انھیں چھوڑ دیا تھا۔
حملے کا شکار ہونے والی بس کے ڈرائیور سے گفتگو کرنے والے مکہ بس کمپنی کے ایک ملازم نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسلمانوں نے ساتھی عیسائی مسافروں سے الگ ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
نیروبی میں بی بی سی کے نامہ نگار بشکاس جگسوڈے سے بات چیت کرتے ہوئے ڈرائیور سے بات کرنے والے کمپنی کے ملازم نے مزید تفصیلات سے بھی آگاہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک شخص شدت پسندوں کی فائرنگ سے بس سے زبردستی اتارے جانے کے دوران جان بچانے کے لیے بھاگنے کی کوشش کے دوران فائرنگ ہلاک ہوگیا تھا۔
سنہ 2011 میں صومالیہ میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے کینیا کی افواج کے داخلے کے بعد سے الشباب گروہ کی جانب سے کینیا پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
خیال رہے کہ کینیا کے شمال مشرقی علاقے میں صومالی نسل کے افراد کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔







