صومالیہ میں الشباب کا ساحلی شہر پر قبضہ

الشباب کا ملک کے جنوب میں کئی علاقوں پر قبضہ ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنالشباب کا ملک کے جنوب میں کئی علاقوں پر قبضہ ہے

صومالیہ میں اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم الشباب نے ساحلی شہر مرکہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

افریقی یونین کی فورسز نے اس شہر پر ساڑھے تین برس پہلے کنٹرول حاصل کیا تھا اور جمعے کو وہ شہر سے نکل گئی تھیں۔

صومالیہ کے لوئر شیبلی خطے کے گورنر ابراہیم آدم نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ الشباب نے جمعے کو بغیر کسی مزاحمت کے شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔

مرکہ دارالحکومت موغا دیشو سے جنوب مشرق میں 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ اب الشباب کے زیر قبضہ سب سے بڑا شہر ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ٹومی اولیڈیپو کا کہنا ہے کہ مرکہ پر الشباب کا قبضہ افریقی یونین کی فوج کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

مرکہ کے مقامی شہری ابراہیم مومن نے اے ایف پی کو بتایا کہ افریقی یونین کی فوج دوپہر کے قریب شہر سے نکل گئی اور اس کے تھوڑی دیر بعد مقامی انتظامیہ کے اہلکار اور صومالی فوجی بھی شہر سے نکل گئے اور بعد میں بھاری ہتھیاروں سے مسلح الشباب کے جنگجو شہر میں داخل ہو گئے۔

ایک اور شہری محمد نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ الشباب نے اپنے جھنڈے شہر کے پولیس سٹیشن اور انتظامیہ کے ہیڈکوارٹر پر لہرا دیے ہیں۔

افریقی یونین کی فورسز نے شہر کو ایک ایسے وقت خالی کیا ہے جب تین ہفتے قبل ہی الشباب نے ملک کے جنوبی شہر العدی میں اس کے فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔ الشباب نے اس کارروائی میں ایک سو کینیائی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

الشباب کو 2011 میں دارالحکومت موغا دیشو سے نکال دیا گیا تھا تاہم اس کا ملک کے جنوبی علاقوں پر قبضہ ہے۔