بغداد کے گِرد حفاظتی دیوار کی تعمیر

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
عراق میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے حملے روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت بغداد کے گرد دیوار کی تعمیر شروع کر دی ہے۔
ایک اہکار کے مطابق 300 کلومیٹر لمبا حصار شہر کے چاروں جانب ہوگا۔
خیال رہے کہ دولت اسلامیہ عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں پر قابض ہے اور اس نے حال ہی میں بغداد میں ہونے والے کئی حلموں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
گذشتہ ماہ بغداد کے ایک شاپنگ سینٹر میں ہونے والے حملے میں ١٨ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
بغداد کے عسکری ترجمان عبدالامیر الشمری کا کہنا ہے کہ ‘بغداد کے گرد حفاظتی حصار دہشت گردوں کو دارالحکومت میں داخلے یا دھماکہ خیز مواد سمگل کرنے اور کار بم دھماکوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے سے روکے گا۔‘
اس دیوار کی تعمیر مکمل ہونے کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔
الثمریا نیوز ویب سائٹ کے مطابق حصار کے ساتھ ساتھ دومیٹر گہری خندق بھی کھودی جائے گی۔ نگرانی کے لیے کیمرے، دھماکہ خیز مواد جانچنے کے آلاد اور ٹاورز بھی نصب کیے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عبدالامیر الشمری کے مطابق دارالحکومت کے کئی حصوں میں کنکریٹ کے حفاظتی بیریئر موجود ہیں۔ ان میں کچھ کو شہر کی گلیوں سے نکال کر نئے حصار کے طور پر بھی لگایا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق شہر کے گرین زون کہلائے جانے والے علاقے میں دیواریں اور حفاظتی حصار قائم رہے گا۔
یہ انتہائی سخت حفاظتی حصار میں قائم زون امریکہ کی سربراہی میں اتحاد کی جانب سے صدر صدام حسین کی حکومت گرائے جانے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔
اس گرین زون میں حکومتی عمارتیں، پارلیمان اور امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے سفارتخانے قائم ہیں۔
جون 2014 میں دولت اسلامیہ کے عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے خودساختہ خلافت قائم کر لی تھی جو شام کی سرحد تک پھیلی ہوئی ہے۔
امریکی اتحاد کی فضائی بمباری اور زمینی کارروائیوں کے باوجود یہ گروہ حملے کرتا رہا ہے۔







