25 سال بعد بغداد میں سعودی سفارت خانہ کھل گیا

عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد سعودی عرب نے بغداد میں قائم اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنعراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد سعودی عرب نے بغداد میں قائم اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا

سعودی عرب نے 25 سال کے بعد عراق کے دارالحکومت بغداد میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا ہے۔

جمعے کو خبررساں ادارے روئٹرز نے العریبیہ ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ بغداد میں سعودی سفارت خانے کے دوبارہ کھلنے سے دونوں ممالک کے مابین دہشت گردی سے نبردآزما ہونے کے حوالے سے تعاون بڑھے گا۔

<link type="page"><caption> شام میں امن، سعودی دباؤ کتنا کارآمد؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151212_saudi_syira_influnece_sq.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> دہشت گردی کے خلاف 34 اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151215_saudi_islamic_countries_coalition_sz.shtml" platform="highweb"/></link>

خیال رہے کہ سنہ 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد سعودی عرب نے بغداد میں قائم اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔

سعودی سفارت خانے میں تعینات ہونے والے سعودی سفیر ثمر الشعبان نے العریبیہ ٹی وی کو بتایا کہ کہ اس کی دوبارہ کھلنے سے دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھے گا۔

سنی حکمرانی والے سعودی عرب اور عراق کی شیعہ حکومت کے مابین اس تعلق کی بحالی کو برف پگھلنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے اور یہ شام اور عراق کے علاقوں پر قابض شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف علاقائی اتحاد کی مضبوطی میں مددگارثابت ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب طویل عرصہ سے عراق پر اپنے علاقائی حریف ایران کے بہت زیادہ قریب ہونے کا الزام عائد کرتا رہا ہے جبکہ عراق اس الزام کی تردید کرتا ہے۔