’اتحاد سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف سنّیوں کا کردار بڑھے گا‘

عادل الجبیر کے مطابق اس سلسلے میں کوئی قیود نہیں کہ مدد کہاں اور کسے فراہم کی جائے گی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعادل الجبیر کے مطابق اس سلسلے میں کوئی قیود نہیں کہ مدد کہاں اور کسے فراہم کی جائے گی

امریکہ نے دہشت گردی کا مقابلے کرنے کے لیے 34 اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے۔

ادھر سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد اپنے ارکان کی جانب سے مدد کی درخواستوں پر ان کی نوعیت کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

اسلامی ممالک کے اتحاد کے قیام کا اعلان منگل کو ہی کیا گیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مسلم ممالک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مشترکہ کوششیں کرے گا۔

<link type="page"><caption> جنرل راحیل شریف دو روزہ دورے پر سعودی عرب میں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/11/151103_raheel_sharrif_saudi_arab_visit_hk.shtml" platform="highweb"/></link>

امریکہ کے وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والا اتحاد اس امریکی حکمتِ عملی کے عین مطابق ہے جس کا مقصد دولتِ اسلامیہ کے مقابلے کے لیے سنّیوں کے کردار کو وسعت دینا ہے۔

سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجبیر نے منگل کو پیرس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی قیود نہیں کہ مدد کہاں اور کسے فراہم کی جائے گی۔

سعودی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب کی قیادت میں اس فوجی اتحاد کے تحت خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا اور اگر ضرورت ہوئی تو فوجی دستے بھی تعینات کیے جائیں گے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں زمینی افواج بھیجنے کے سوال پر بھی سعودی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ کوئی بھی پہلو ایسا نہیں ہے جس پر غور نہ کیا جائے۔

اس اتحاد میں مصر، قطر اور عرب امارات جیسے عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ترکی، ملائیشیا، پاکستان اور کئی افریقی ممالک بھی شامل ہیں۔

تاہم خلیجی ممالک میں اپنے مختلف مفادات کے سبب خطے میں سعودی عرب کے روایتی حریف ایران کے علاوہ عراق اور شام کو بھی اس اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ عراق اور شام دونوں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔

سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل دی جانے والی فورس میں پاکستان کی شمولیت کا اعلان سعودی حکام نے تو کیا ہے لیکن پاکستان نے اس اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے کے حوالے سے کوئی موقف ظاہر نہیں کیا۔

 امریکہ خطے میں دولت اسلامیہ جیسی شدت پسند تنظیم سے نمٹنے کے لیے خلیجی ممالک پر مزید فوجی اقدامات کرنے اور مدد کرنے کے لیے زور دیتا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن امریکہ خطے میں دولت اسلامیہ جیسی شدت پسند تنظیم سے نمٹنے کے لیے خلیجی ممالک پر مزید فوجی اقدامات کرنے اور مدد کرنے کے لیے زور دیتا رہا ہے

پاکستان کی وزارتِ دفاع کی ترجمان ناریتا فرہان نے منگل کو بی بی سی کی نامہ نگار سارہ حسن کو بتایا کہ ’وزارتِ دفاع اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دے سکتی اور دفتر خارجہ اس حوالے سے پاکستان کی پوزیشن واضح کرے گا۔‘

دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے بار بار رابطہ کرنے پر کہا کہ ’اس پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس پر مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔‘

خیال رہے کہ سعودی عرب اور اس کے پڑوسی خلیجی ممالک کا اتحاد گذشتہ کئی ماہ سے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کر رہا ہے۔

تاہم امریکہ خطے میں دولت اسلامیہ جیسی شدت پسند تنظیم سے نمٹنے کے لیے خلیجی ممالک پر مزید فوجی اقدامات کرنے اور مدد کرنے کے لیے زور دیتا رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں جس طرح سے دولت اسلامیہ نے مغربی مقامات کو نشانہ بنایا ہے اس کے بعد سے امریکہ نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ اس فوجی طاقت کا مناسب استعمال دولت اسلامیہ کے خلاف ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔