شامی حزب اختلاف کا حکومت سے مذاکرات کے اصولوں پر اتفاق

احرار الشام نے اعتراض کیا کہ وہ لوگ جو شامی حکومت کے قریب سمجھے جاتے ہیں ان کو اس کانفرنس میں اہمیت دی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناحرار الشام نے اعتراض کیا کہ وہ لوگ جو شامی حکومت کے قریب سمجھے جاتے ہیں ان کو اس کانفرنس میں اہمیت دی جا رہی ہے

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شام میں حزب مخالف جماعتوں اور باغیوں میں ان اصولوں پر سمجھوتہ ہو گیا ہے جن کے تحت شامی حکومت سے امن مذاکرات کیے جائیں گے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ان اصولوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایک ایسی حکومت تشکیل دی جائے جو تمام شامی لوگوں کی نمائندگی کرے۔

ان اصولوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد اور ان کے ساتھیوں کا اقتدار کی منتقلی میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔

اس اجلاس سے قبل باغیوں کے سب سے بڑے گروہ احرار الشام نے اس کانفرنس میں نہ جانے کا فیصلہ کیا۔

احرار الشام نے اعتراض کیا کہ وہ لوگ جو شامی حکومت کے قریب سمجھے جاتے ہیں، ان کو اس کانفرنس میں اہمیت دی جا رہی ہے۔

ریاض میں ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں مغرب کی حمایت یافتہ حزب اختلاف کا اتحاد نیشنل کوایلیشن اور نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی نے بھی شرکت کی۔ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے خلاف شامی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی ماسوائے چند اراکین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

نیشنل کوایلیشن نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ کانفرنس کے شرکاء مذاکرات کے لیے لائحہ عمل پر متفق ہو گئے ہیں۔

روئٹرز نے کہا ہے کہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق شام میں ایک ایسی حکومت بنائی جائے جو شام کی عوام کی نمائندگی کرے اور جس میں خواتین بھی شامل ہوں۔

کانفرنس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ رریاستی اداروں کو دوبارہ سے مضبوط کیا جائے گا اور سکیورٹی فورسز کی تنظیم نو کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کانفرنس کے شرکا اس بات پر بھی متفق تھے کہ بشار الاسد کو اقتدار سے علیحدہ ہونا ہو گا۔