شام میں امن، سعودی دباؤ کتنا کارآمد؟

- مصنف, جِم موئر
- عہدہ, بی بی سی نیوز، بیروت
خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کی انتہائی ظالمانہ کارروائیوں کے طفیل جمعرات کی رات شامی حزب اختلاف اور باغی گروہوں کی جانب سے بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر رضامندی کے بعد لگتا ہے کہ شام کے بحران کے حل کی راہ میں حائل پہلی بڑی رکاوٹ کسی قدر دور ہو گئی ہے۔
لیکن دوسرے ہی دن شامی بحران کے تصفیے کے عمل میں اس وقت رخنہ پڑ گیا جب صدر اسد نے ان ’دہشتگردوں‘ سے بات کرنے سے انکار کر دیا جو بقول ان کے خود کو ایک سیاسی تنظیم کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی کانفرنس ایسے کئی ناقدین کی توقعات سے بہت بہتر ثابت ہوئی جن کا خیال تھا کہ شام میں برسرِ پیکار مختلف متحارب گروہوں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے اس کانفرنس کا ستیاناس ہو جائے گا۔ ناقدین کے یہ خدشات بے بنیاد نہیں تھے کیونکہ ماضی میں یہ متحارب گروہ شام کے بحران کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں میں حصہ لینے سے انکار کرتے رہے ہیں۔
اس کانفرنس کے وقت بھی متحارب گروہوں کے اختلافات اپنی جگہ پر قائم رہے، لیکن ریاض میں ان اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے مندوبین شام کے لیے ایک ایسے مستقبل پر رضامند ہو گئے جو کثیرالتہذیبی اور جمہوری روایات کا حامل ہو گا اور اس میں تمام فریقوں کو شامل کیا جائے گا۔ یہ بات کانفرنس میں موجود انتہا پسند گروہوں کے لیے کسی بڑی خفت سے کم نہیں تھی۔
ان نام نہاد اسلام پسند گروہوں میں سے ایک، ’احرارالشام‘ کا کہنا تھا کہ وہ اس کانفرنس سے باہر نکل جائے گا کیونکہ حتمی اعلامیہ ’ہمارے اسلامی تشخص پر زور دینے میں ناکام رہا ہے۔‘
لیکن بعد کی اطلاعات میں معلوم ہوا کہ اس گروہ نے اپنے موقف پر دوبارہ غور کیا اور اپنے ’تحفظات‘ کے باوجود اعلامیے پر دستخط کر دیے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس گروہ کے موقف میں یہ تبدیلی سعودی دباؤ کی وجہ سے آئی ہے کیونکہ سعودی عرب ہی اس گروہ کی پشت پناہی اور مدد کرتا آیا ہے۔

یہ واقع ظاہر کرتا ہے کہ شام میں تصفیے کے سلسلے میں سعودی عرب کس قدر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ سعودی عرب یہ سب کچھ امریکہ کی بھرپور رضامندی اور حمایت کے بغیر نہیں کر سکتا۔
کانفرنس میں ایک ’اعلیٰ درجے کی مذاکراتی اتھارٹی‘ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جو شامی حکومت کے ساتھ اگلے سال بات چیت کے لیے باغی گروہوں اور حزب اختلاف کی رہنمائی کرے گی اور شامی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے مذاکراتی ٹیم کا انتخاب بھی کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متحارب گروہوں کو قیادت فراہم کرنے والی یہ اتھارٹی ریاض میں مقیم رہے گی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اتھارٹی مکمل اور مستقل طور پر سعودی عرب کے زیر اثر رہے گی۔
’دو حل‘
سوال پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب شام کے تنازعے کے حل کی کوششوں میں اپنی اتنی کھلم کھلا وابستگی کی قیمت کیا چاہتا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ سعودی عرب، قطر اور ترکی ہی ہیں جو شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔
شاید سعودی عرب اپنے اس کردار کی قیمت بشارالاسد اور ان کے قریبی حلقے کے افراد کی موت اور ان ’علامات اور میناروں‘ کی تباہی کی شکل میں چاہتا ہے جن پر بشارالاسد کا اقتدار کھڑا ہے۔
یہاں تک کہ جب ریاض کانفرس جاری تھی، عین اس وقت بھی سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجبیر نے اپنے ملک کے اس موقف پر اصرار کیا کہ ’اسد کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ بہتر اور فوری حل تو یہی ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اقتدار سے الگ ہو جائیں ورنہ انھیں طاقت کے استعمال سے اقتدار سے باہر کر دیا جائے۔‘
لیکن ریاض کانفرنس میں سعودی عرب نے اپنے موقف میں قدرے نرمی کا مظاہرہ کیا اور اپنے اس دیرینہ مطالبے پر اصرار نہیں کیا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ’اسد اینڈ کمپنی‘ کو چاہیے کہ وہ اقتدار سے الگ ہو جائیں۔
اس نرمی کے باوجود کانفرنس کے حتمی اعلامیے میں یہ بات دُہرائی گئی ہے کہ شام کے مستقبل میں اسد اور ان کے قریبی ساتھیوں کا کوئی کرادر نہیں ہونا چاہیے اور اسد اور ان کے ساتھیوں کے لیے ضروری ہے کہ دیگر ممالک کی جانب سے طے کیے جانے والے اقتدار کی منتقلی کے عمل کے شروع ہونے سے پہلے اقتدار چھوڑ دیں۔

لگتا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی اپنی اس شرط سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر سعودی عرب نے ہر قیمت پر اسد کو ہٹانے کے منصوبے پر جو اتنی زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اس کی کوئی تُک نہیں تھی۔
لیکن سعودی عرب نے شام کے مستقبل کا جو نقشہ اپنے ذہن میں بنا رکھا ہے اسے ریاض کانفرنس کے فورً بعد بشارالاسد نے اٹھا کر باہر پھینک دیا ہے۔
جس طرح اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ سعودی عرب کیونکر پیچھے ہٹے گا، اسی طرح اس بات کا تصور کرنا بھی محال ہے کہ روسی اور ایرانی بھی اپنے موقف سے کیسے پیچھے ہٹیں گے کیونکہ وہ بھی شام میں اپنی حکمت عملی کی کامیابی کے لیے سعودی عرب سے زیادہ سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔
روس اور سعودی عرب جانتے ہیں کہ اگر شام میں ایک جمہوری حکومت قائم ہو جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہاں اقتدار سُنی اکثریت کے ہاتھ میں چلا جائے گا، بالکل اسی طرح جیسے عراق میں جمہوریت کے بعد اقتدار شیعہ اکثریت کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔
ریاض کانفرنس میں ہونے والی بظاہر مفاہمت کا اظہار شامی حزب اختلاف اور باغیوں کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے اس فقرے سے ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں شامی ریاست کے مستقبل کی بنیاد ’اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے اصول‘ کو گلے لگانے میں ہے۔
شاید اس فقرے میں پوشیدہ خفیہ پیغام اس ’نرم تقسیم‘ کی جانب اشارہ کرتا ہے جو کچھ لوگوں کے خیال میں شام کے مستقبل کا واحد قابلِ عمل فارمولا ہے۔ اس فارمولے کا مطلب یہ ہے کہ وہ علاقے جو شام میں برسرِپیکار متحارب گروہوں نے اپنے قبضے میں کیے ہوئے ہیں وہاں انھی گروہوں کا اختیار قائم رہے گا اور وہ ایک بڑی فیڈریشن کے حصے بن جائیں گے۔ ان گروہوں میں دولتِ اسلامیہ کے علاوہ تمام فریق شامل ہوں گے، اور یہ تمام گروہ مل کر دولتِ اسلامیہ کا خاتمہ کر دیں گے۔
یہ ایک ایسا فارمولا ہے جس کے تحت مختلف متحارب گروہ اور ان کے پیروکار اپنا اپنا ’اسلامی تشخص‘ برقرار رکھیں گے اور اس میں ان کُردوں کی ایک الگ شناخت بھی قائم رہے گی جن کو ابھی تک شام کے مستقبل کے نقشے پر جگہ نہیں دی گئی تھی۔ کُرد چاہتے ہیں کہ ایک ’متحدہ شام کے اندر ان کے علاقے کا انتظام‘ ان کے حوالے کر دیا جائے۔

مغربی ممالک کا خیال ہے کہ اگر حالیہ فضائی حملے اور زمین پر موجود کُرد اور دیگر معتدل جنگجو کامیاب نہیں ہوتے تو یہ فارمولا وہ واحد حقیقی حمکت عملی ہو سکتی ہے جس پر عمل کرتے ہوئے دولتِ اسلامیہ کا خاتمہ ممکن ہے۔
لیکن اگر اس فارمولے پر سب رضامند ہو جاتے ہیں، تب بھی لگتا ہے کہ سعودی اور ان کے اتحادی اس بات پر زور دیتے رہیں گے شام میں تنازع اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا ہے جب تک صدر اسد اور ان کے قریبی لوگوں کو اقتدار سے الگ نہیں کر دیا جاتا اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو شام میں مختلف فریقوں کے درمیان تناؤ برقرار رہے گا۔
کیا یہ حل ماسکو اور تہران کو قابل قبول ہو گا؟
آیا یہ دونوں ممالک اس بات کے متحمل ہو سکتے ہیں کہ وہ آنے والے برسوں میں شام میں پیسہ لگاتے رہیں اور وہاں ان کا اثر و رسوخ قائم نہ ہو سکے؟
اس قسم کے بڑے سوالات کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے، لیکن لگتا ہے کہ شام کے حوالے سے جنوری میں متوقع مذاکرات سے پہلے بہت زیادہ لے دے ہوتی رہے گی اور ہر فریق اپنا زور استعمال کرتا رہے گا۔
اگرچہ ریاض کانفرنس کے اعلامیے پر روس اور ایران نے کھل کر تبصرہ نہیں کیا ہے، تاہم انھوں نے دوسرے فریق کے موقف میں ایک واضح تضاد کی نشاندہی ضرور کی ہے۔
روس اور ایران کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ احرارالشام اور اس جیسے دیگر گروہ النصرہ فرنٹ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جبکہ النصرہ فرنٹ القاعدہ کی ساتھی تنظیم ہے جس کے نظریات وہی ہیں جو دولتِ اسلامیہ کے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ النصرہ فرنٹ ان سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو جو دولتِ اسلامیہ کا شیوہ ہیں اور النصرہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ بھی رہی ہو، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بین الاقوامی برادری النصرہ فرنٹ کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتی ہے۔
تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شام میں دہشتگرد کون ہے اور وہ ’معتدل‘ جنگجو کون ہیں جنھیں شام میں قیام امن کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے؟
روس اور ایران کے برعکس صدر اسد نے یہ کہنے میں بالکل دیر نہیں لگائی کہ ریاض کانفرنس کے تمام شرکا دراصل دہشتگرد یا بیرونی طاقتوں کے گماشتے ہیں اور وہ ان میں کسی کے ساتھ بھی بات نہیں کریں گے۔
امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ شام کے مستقبل پر مذاکرات جاری رکھنے سے پہلے ہمیں کچھ ’مروڑ‘ سیدھا کرنے پڑیں گے۔







