تیل کی آمدن میں کمی سے سعودی عرب کے مالی خسارہ میں اضافہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے سبب تیل برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک سعودیہ عرب کا خسارہ 98 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
شاہ سلمان کے دورِ اقتدار میں آنے والے پہلے سالانہ بجٹ میں قومی آمدن میں تقریباً 162 ارب ڈالر کمی کی توقع ہے جبکہ ملک کے اخرجات میں 13 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
ملک کی آمدن میں کمی اور اخراجات میں اضافے کی بعد توازن پیدا کرنے کے لیے سعودی وزیر خزانہ نے عوام کو پیڑولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی کم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
جس کے بعد توقع ہے کہ ملک میں پیڑول کی قیمت میں 50 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا جبکہ ڈیزل، بجلی اور پانی کے نرخوں میں بھی اضافہ ہو گا۔
مارچ سنہ 2012 میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 125 ڈالر فی بیرل کی انتہائی سطح پر پہنچنے کے بعد اب محض 37 ڈالر فی بیرل پر ہے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ملک کی مجموعی آمدن کا 77 فیصد تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدن پر مشتمل ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے سنہ 2015 میں آمدن 23 فیصد کم ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دنیا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے اپنے اجلاس میں تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کی تجویز کو مسترد کیا تھا تاکہ دوسرے ممالک بالخصوص امریکی شیل گیس کمپنیوں کے لیے کاروبار کرنے کی فضا سازگار نہ رہے۔
یمن میں مداخلت اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے سال 2015 میں سعودی عرب کے عسکری اور دفاعی اخراجات 20 ارب ریال تک پہنچ گئے ہیں۔








