عراق: 40 فیصد علاقہ دولت اسلامیہ کے ہاتھ سے نکل گیا

،تصویر کا ذریعہAP
عراق میں دولتِ اسلامیہ سے برسرِ پیکار امریکہ کی سربراہی والے اتحاد کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے ہاتھ سے عراق کا وہ 40 فیصد علاقہ نکل گیا ہے جس پر کبھی اس کا قبضہ تھا۔
کرنل سٹیو وارن نے بغداد میں رپورٹروں کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ اب کمزور اور دفاعی پوزیشن میں ہے اور مئی سے اس نے ایک انچ بھی حاصل نہیں کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ شام میں بھی 20 فیصد علاقے سے نکال دی گئی ہے۔
سنہ 2014 میں دولتِ اسلامیہ میں عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد خلاف کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
اتحادیوں کے مطابق عراقی حکومت اور کرد پیش مرگا فورسز نے ایران کے حمایت یافتہ نیم فوجی جنگجوؤں اور اتحادی فضائی حملوں کی مدد سے 20 ہزار سکوائر کلو میٹر کا علاقہ واپس حاصل کر لیا ہے۔
گذشتہ ہفتے عراقی سکیورٹی فورسز اور سنی قبائلی کے جنگجوؤں نے ایک مہینے کی لڑائی کے بعد مغربی شہر رمادی پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
گذشتہ برس عراقی شہر تکریت سے بھی دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو نکال دیا گیا تھا لیکن ان کا ابھی بھی سب سے بڑے شمالی شہر موصل پر قبضہ ہے۔
شام میں صدر بشار الاسد کی فورسز بھی جہادیوں، باغی گروہوں اور کرد ملیشیا پر حاوی ہو رہی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ نئی اہم علاقوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں جیسا کہ قدیم شہر پالمائرہ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







