عراقی فوج کا رمادی کو ’آزاد‘ کروانے کا دعویٰ

عراقی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے مغرب میں واقع شہر رمادی کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے مکمل طور پر ’آزاد کروا لیا گیا‘ ہے۔

بریگیڈیئر جنرل یحییٰ رسول نے کہا ہے کہ عراقی فوج نے ’یادگار‘ فتح حاصل کی ہے اور اب فوج علاقے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہے۔

<link type="page"><caption> عراقی افواج ’دولتِ اسلامیہ کے گڑھ میں داخل‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/12/151222_ramadi_advance_iraq_army_ak.shtml" platform="highweb"/></link>

فوجی ترجمان نے کہا کہ شہر کا زیادہ تر علاقہ فوج کے کنٹرول میں ہے تاہم صوبہ انبار کے گورنر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ شہر میں اب بھی ’کچھ علاقوں میں مزاحمت موجود ہے۔‘

عراقی فوج کئی ہفتوں سے رمادی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعراقی فوج کئی ہفتوں سے رمادی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی

عراقی فوج نے پیر کو رمادی کے وسطی علاقے میں واقع حکومتی عمارتوں کے اس کمپلیکس پر قومی پرچم لہرا دیا جسے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو یہ جگہ چھوڑ کر شہر کے شمال مشرق کی طرف فرار ہوئے ہیں۔

عراقی حکومت کی افواج جنھیں غیرملکی اتحادی افواج کی فضائی مدد حاصل ہے کئی ہفتوں سے سنّی اکثریتی آبادی والے اس شہر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ چھڑوانے کے لیے کوشاں ہیں۔

رمادی پر رواں برس مئی میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے قبضہ کیا تھا اور اسے عراقی فوج کے لیے ایک شرمناک شکست کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

عراقی فوج رمادی میں جشن مناتی نظر آئی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعراقی فوج رمادی میں جشن مناتی نظر آئی

حالیہ دنوں میں عراقی فوج نے ایسی گلیوں اور عمارتوں سے گزر کر شہر کے مرکز کی جانب راستہ بنایا جن میں پوشیدہ بم نصب تھے اور راستے میں کئی اضلاع کو اپنے قبضے میں بھی لیا تھا۔

عراقی فوج کے آٹھویں ڈویژن کے بریگیڈیئر جنرل ماجد فتلاوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے ’حکومتی کمپیلکس کی سڑکوں اور عمارتوں میں 300 سے زیادہ بم نصب کر رکھے تھے۔‘

عراقی فوج کی جانب سے رمادی میں فتح کے اعلان کے باوجود امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے صوبہ انبار میں عسکری کارروائیوں کے سربراہ جنرل اسماعیل المہلوی کے حوالے سے کہا ہے کہ پسپا ہونے والے شدت پسند اب بھی شہر کے کچھ علاقوں میں موجود ہیں۔

گذشتہ ماہ حکومتی فورسز نے رمادی شہر کو مکمل طور پر گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے وہاں موجود دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اپنے دوسرے مضبوط گڑھ انبار صوبے اور شام سے کٹ گئے تھے۔

عرقی فوج کو امریکہ نے اس آپریشن کے لیے مہینوں تربیت دی ہے
،تصویر کا کیپشنعرقی فوج کو امریکہ نے اس آپریشن کے لیے مہینوں تربیت دی ہے