عراقی فورسز کا بیجی شہر کے بڑے حصے پر کنٹرول کا دعویٰ

شہر کے شمال میں تیل کے بہت سے ذخائر پر قبضہ کرنے کے بعد سکیورٹی فورسز علاقے کو جنگجوؤں اور دھماکہ خیز مواد سے خالی کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشہر کے شمال میں تیل کے بہت سے ذخائر پر قبضہ کرنے کے بعد سکیورٹی فورسز علاقے کو جنگجوؤں اور دھماکہ خیز مواد سے خالی کر رہے ہیں

عراقی فورسز کے مطابق انھوں نے خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف کئی ماہ سے جاری بڑی پیش قدمی کے دوران جمعے کوسٹریٹیجک علاقے بیجی میں بہت سے جہادی جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ زمین میں نصب کئی دھماکہ خیز آلات کو بھی ناکارہ بنا دیا ہے۔

عراقی شہر بیجی بہت سے محاذوں کے درمیان واقع ہے اور اس شہر پر کنٹرول حاصل کرنا دوسرے علاقوں جن میں انبار صوبہ بھی شامل ہے میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے۔

فوج کے افسران کا کہنا ہے کہ فوج، پولیس اور دہشت گردی سے نمٹنے کے اداروں سمیت ہاشد ال شابی کے ہزاروں جنگجوؤں کی جانب سے بیجی اور اسے کے ارد گرد کے علاقوں میں اہم کامیابیاں حاصل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک فوجی کرنل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’عراقی فورسز بیجی میں کافی اندر تک داخل ہو چکی ہیں اور انھوں نے صنعتی علاقے سمیت کئی قریبی مقامات پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ’ہم نے شہر کے 60 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔ انھوں نے دولت اسلامیہ کا عربی نام داعش استعمال کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ان کے مزید جنگجو نہیں ہیں اور جو ہیں انھیں گھیر لیا گیا ہے۔‘

شہر کے شمال میں تیل کے بہت سے ذخائر پر قبضہ کرنے کے بعد سکیورٹی فورسز علاقے کو جنگجوؤں اور دھماکہ خیز مواد سے خالی کر رہے ہیں۔

آرمی کرنل نے بتایا ہے کہ ’تیل کے ذخائر میں ہماری فورسز زمین میں نصب دماکہ خیز آلات کو ناکارہ بنا رہے ہیں اور کچھ عمارتوں میں چھپے ہوئے آخری شدت پسندوں کی تلاش جاری ہے۔‘

بعض افسران کا کہنا ہے کہ جمعرات کو تیل کے ذخائر پر حملے میں کم سے کم چھ دولت سلامیہ مخالف جنگجو مارے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے تقریباً 15 جنگجوؤں کی لاشیں ملی ہیں اور زخمی ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد کو دولت اسلامیہ کے گڑھ ہوائج اور شرقات منتقل کر دیا گیا ہے۔

فوجی افسر نے بتایا ہے کہ ’ہماری وفادار فورسز نے بیجی کے صنیا قصبے جو کے اس سڑک پر واقع ہے جو انبار کی جانب سے جاتا ہے کو مکمل طور پر گھریے میں لیا ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم بڑی تعداد میں راکٹ اور میزائل داغ رہے ہیں جبکہ عراقی جنگی طیارے بھی حملے کر رہے ہیں تاکہ صنیا کو خالی کرانے کی راہ ہموار ہو سکے۔‘