عراقی افواج رمادی پر آخری حملے کے لیے تیار

،تصویر کا ذریعہAP
عراق کی سرکاری فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے زیر قبضہ شہر رمادی میں اہم پیش قدمی کی ہے اور اب وہ آخری حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
انبار صوبے میں مشترکہ آپریشن کمانڈ کا کہنا ہے کہ فوجی اور ملیشیا رمادی کے شمالی علاقے البو فراج تک پہنچ چکے ہیں۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ شہر میں دولت اسلامیہ کے تقریباً چھ سو سے ایک ہزار تک جنگجو موجود ہیں اور وہ کافی بہتر انداز میں مورچہ بند ہیں۔
منگل کو امریکہ کا کہنا تھا کہ اس کے خیال میں اب رمادی پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے۔
واضح رہے کہ عراقی دارالحکومت سے 90 کلومیٹر دور واقع رمادی شہر پر دولت اسلامیہ نے گذشتہ مئی میں قبضہ کر لیا تھا۔ عراقی فوج کی اس شرمناک شکست کی وجہ سے پونے تین لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔
بدھ کو انبار کی مشترکہ آپریشن کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’دولت اسلامیہ کے خلاف فتح کی گھڑی آگئی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آپ کی بہادر افواج ثابت قدمی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور وہ البو فراج کے علاقے تک پہنچ گئی ہیں۔‘
کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل اسماعیل محالوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’فرات کے قریب البو فراج پل پر عراقی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔‘
پینٹاگون کے ترجمان کرنل سٹیو ویرن نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’عراقی فورسز نے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران رمادی کی طرف 15 کلومیٹر تک پیش قدمی کی ہے اور اچھی بات ہی ہے کہ وہ چاروں اطراف سے شہر میں داخل ہو رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا: ’یہ ایک شدید لڑائی ہے اور ہمارے خیال میں صورت حال بہت بہتر ہے۔‘







